چین کا 6 جی ٹیکنیکل ٹرائلز کے دوسرے مرحلے کا آغاز، 300 سے زائد کلیدی ٹیکنالوجیز تیار

بیجنگ، 21 جنوری، 2026 (وام) --چین نے چھٹی نسل کی موبائل ٹیکنالوجی 6 جی کے ٹیکنیکل ٹرائلز کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کیا ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 300 سے زائد کلیدی 6 جی ٹیکنالوجیز پر مشتمل ایک مضبوط تحقیقی و تکنیکی ذخیرہ تشکیل دیا جا چکا ہے۔

چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن کے مطابق وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نائب وزیر ژانگ یون منگ نے کہا کہ چین میں 5 جی اور گیگابٹ آپٹیکل نیٹ ورکس کو قومی معیشت کے 97 میں سے 91 بڑے شعبوں میں مؤثر طور پر ضم کر دیا گیا ہے، جبکہ صنعتی انٹرنیٹ 41 اہم صنعتی شعبوں میں مکمل کوریج حاصل کر چکا ہے۔

وزارت کے ترجمان شیے کن نے بتایا کہ چین نے دنیا کا سب سے بڑا انفارمیشن انفراسٹرکچر قائم کر لیا ہے، جس میں تقریباً 48 لاکھ 40 ہزار 5 جی بیس اسٹیشنز اور 1 ارب 20 کروڑ سے زائد 5 جی صارفین شامل ہیں۔ ان کے مطابق انفرادی صارفین کی سطح پر 5 جی صارفین کی تعداد ملک بھر میں مجموعی موبائل فون صارفین کا 65 اعشاریہ 9 فیصد بنتی ہے، جو عالمی سطح پر ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی آزمائشوں کے ذریعے چین نے 6 جی تحقیق و ترقی کے پہلے مرحلے کو کامیابی سے مکمل کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں 300 سے زائد کلیدی 6 جی ٹیکنالوجیز پر مشتمل ذخیرہ تیار ہوا، جبکہ حال ہی میں دوسرے مرحلے کے ٹیکنیکل ٹرائلز کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت اور جدید مواصلاتی نظاموں کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔