متحدہ عرب امارات کا ریگولیٹری انٹیلیجنس پر انقلابی وائٹ پیپر جاری، مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ ضابطہ جاتی نظام متعارف

ڈیووس، 22 جنوری، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ریگولیٹری نظام میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر ’’متحدہ عرب امارات: ریگولیٹری انٹیلیجنس کے مستقبل کی تشکیل، ایک جامد ضابطہ کتاب سے ایک زندہ، مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ ریگولیٹری ایکو سسٹم تک‘‘ کے عنوان سے ایک جامع اور انقلابی وائٹ پیپر جاری کر دیا ہے۔ یہ وائٹ پیپر ڈیووس میں منعقدہ 56ویں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ کے موقع پر پیش کیا گیا۔

یہ وائٹ پیپر متحدہ عرب امارات کی کابینہ کے جنرل سیکرٹریٹ نے پری سائٹ (جی 42 کمپنی) اور پرائس واٹر ہاؤس کوپرز کے اشتراک سے تیار کیا ہے، جس میں ایک ایسے جدید ریگولیٹری انٹیلیجنس ایکو سسٹم کا عملی ماڈل پیش کیا گیا ہے جو روایتی، جامد ضابطہ سازی سے ہٹ کر ایک متحرک، ڈیٹا سے رہنمائی لینے والا اور مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ نظام پر مبنی ہے۔

وائٹ پیپر میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ نیا ریگولیٹری ماڈل متحدہ عرب امارات کی دانشمند قیادت کے وژن، قومی ترجیحات اور معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ ہے اور ذہین دور کے تقاضوں کے مطابق مسلسل ارتقا پذیر رہے گا۔

اپنے کلیدی خطاب میں وزیر مملکت اور سیکرٹری جنرل کابینہ متحدہ عرب امارات محترمہ مریم بنت احمد الحمادی نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ٹیکنالوجی اور کاروباری ماڈلز غیر معمولی رفتار سے تبدیل ہو رہے ہیں، روایتی ریگولیٹری طریقہ کار مؤثر ثابت نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پہلا زندہ اور ارتقائی ریگولیٹری انٹیلیجنس ایکو سسٹم متعارف کرانے کا عزم کیا ہے، جو انسان کی قیادت میں ہوگا اور مسلسل تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالتا رہے گا، تاکہ ہر فرد کے لیے بہتر اور خوشحال زندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وائٹ پیپر نہ صرف بصیرت افروز بلکہ عملی نوعیت کا حامل ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ریگولیٹری نظام کس طرح حکومتی کارکردگی بہتر بنا سکتا ہے، معیارِ زندگی بلند کر سکتا ہے اور عالمی سطح پر متحدہ عرب امارات کی مسابقتی حیثیت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

اس موقع پر پری سائٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تھامس پراموتیڈھم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی قوم کی قیادت کس طرح کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہانت، موافقت اور اعتماد پر مبنی ریگولیٹری ایکو سسٹم کے ذریعے متحدہ عرب امارات عالمی معیار قائم کر رہا ہے کہ حکومتیں کس طرح ذمہ داری کے ساتھ مصنوعی ذہانت کو عوامی خدمات کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

پی ڈبلیو سی گلوبل چیئرمین محمد کانڈے بھی اس سیشن میں شریک تھے، جبکہ پی ڈبلیو سی مشرق وسطیٰ کے سینئر پارٹنر ہانی اشکر نے کہا کہ یہ شراکت داری متحدہ عرب امارات کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ انٹیلیجنس پر مبنی ضابطہ سازی کے ذریعے مؤثر حکمرانی کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈبلیو سی اپنی جدید قانونی اور جین اے آئی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک ایسے مربوط ریگولیٹری نظام کے قیام میں معاونت کر رہا ہے جو قوانین، نتائج اور عوامی خدمات کو یکجا کرتا ہے۔

وائٹ پیپر میں پہلی بار کئی انقلابی تصورات متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں اپنی نوعیت کی پہلی ریگولیٹری انٹیلیجنس گلوسری شامل ہے، جس کا مقصد قانون سازوں، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی ماہرین کے درمیان مشترکہ فہم اور متحدہ اصطلاحات کو فروغ دینا ہے۔

اس کے علاوہ وائٹ پیپر میں ’’متحدہ ریگولیٹری ڈیجیٹل ٹوئن‘‘ کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے، جو متحدہ عرب امارات کے ریگولیٹری ایکو سسٹم کا ایک زندہ ڈیجیٹل عکس ہے۔ یہ نظام حقیقی وقت میں تبدیلیوں کی نگرانی، ڈیٹا کا تجزیہ، قانون سازی میں ترامیم کی تجویز، خدمات کے نفاذ اور معاشی و سماجی اثرات کی نقل کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے آئینی اور انسانی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے وائٹ پیپر میں ’’سوورین گورننس ان دی لوپ‘‘ فریم ورک بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت معاون کردار ادا کرے گی، جبکہ فیصلہ سازی کا اختیار ہر مرحلے پر انسان کے پاس رہے گا، تاکہ آئینی اصولوں اور قانونی نظام سے مکمل ہم آہنگی برقرار رہے۔

وائٹ پیپر انسانی کردار کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے اور ایسے مستقبل بین ہائبرڈ کرداروں کی نشاندہی کرتا ہے جو قانون اور ٹیکنالوجی کو یکجا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ’’ریگولیٹری انٹیلیجنس انوویشن لوپ‘‘ فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے، جو ذمہ دارانہ اور مسلسل ریگولیٹری ارتقا کو یقینی بناتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اس ریگولیٹری انٹیلیجنس ایکو سسٹم کو عالمی سطح کی ایک اہم ڈسپلن کے طور پر پیش کیا ہے اور دنیا بھر کے شراکت داروں کو دعوت دی ہے کہ وہ اگلی نسل کی انٹیلیجنس پر مبنی ضابطہ سازی میں تعاون کریں، جو تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے آئینی اصولوں اور عوامی فلاح و بہبود سے جڑی رہے۔