ورلڈ اکنامک فورم: عالمی تجارت کے مستقبل پر مکالمہ، امارات کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا

ڈیووس، 22 جنوری، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات نے ڈیووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کے موجودہ ایڈیشن کے موقع پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی مکالمے میں شرکت کی، جس میں تیزی سے بدلتے ہوئے جیوپولیٹیکل حالات اور عالمی معاشی طاقت میں تبدیلیوں کے تناظر میں عالمی تجارت کے مستقبل کی تشکیل میں امارات کے بڑھتے ہوئے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔

اس سیشن میں اس بات پر غور کیا گیا کہ عالمی سپلائی چینز میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور ازسرِنو صف بندی کے باوجود کھلی اور اصولوں پر مبنی عالمی تجارت کو کس طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ مکالمے میں وزیر مملکت برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی الزیودی اور آئی ایم ڈی کے پروفیسر برائے جیوپولیٹکس و اسٹریٹیجی سائمن ایونٹ نے شرکت کی۔ یہ گفتگو ورلڈ اکنامک فورم کے سرکاری پروگرام کا حصہ تھی اور عالمی تجارتی حکمرانی میں تبدیلیوں اور بین الاقوامی معاشی تعاون کے نئے ماڈلز پر وسیع تر مباحثے کا تسلسل تھی۔

ڈاکٹر ثانی الزیودی نے اس موقع پر عالمی تجارت کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے کھلے پن، شراکت داری اور لچک کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب روایتی تجارتی قیادت کے مراکز زیادہ تر اندرونی ترجیحات پر توجہ دے رہے ہیں، عالمی معیشت کو ایسے متحرک اور قابلِ اعتماد شراکت داروں کی ضرورت ہے جو کھلی منڈیوں کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے سکیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امارات کی تجارتی پالیسی کا محور معیشتوں کے درمیان پل بنانا، منڈی تک رسائی میں توسیع اور ایک ایسے اصولوں پر مبنی تجارتی نظام کی حمایت ہے جو ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی دونوں منڈیوں کے لیے فائدہ مند ہو۔ ڈاکٹر الزیودی نے ’’مستقبل کی سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری‘‘ کو ایک دوراندیش ماڈل قرار دیا، جو اگلی نسل کے تجارتی فریم ورک کی تشکیل کے لیے امارات کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داریاں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بنانے، تجارتی قواعد کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ڈیجیٹل تجارت، سپلائی چین کی مضبوطی اور پائیدار ترقی جیسے نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر مرکوز ہیں۔ ان کے مطابق یہ ماڈل اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح مشترکہ قیادت بدلتی ہوئی عالمی حرکیات کے باوجود کھلے پن کو برقرار رکھ سکتی ہے۔

ڈاکٹر الزیودی نے امارات کے جامع معاشی شراکت داری کے معاہدوں کے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک اور مشرق و مغرب کو ملانے والے ایک قابلِ اعتماد عالمی تجارتی مرکز کے طور پر ملک کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں امارات کی حیثیت کو مکالمے، تعاون اور عملی حل کے پلیٹ فارم کے طور پر مضبوط بنا رہے ہیں جب عالمی تجارت کو نئے اعتماد اور پیش گوئی کی اشد ضرورت ہے۔

دوسری جانب پروفیسر سائمن ایونٹ نے عالمی تجارت کی تشکیل میں جیوپولیٹیکل عوامل کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ معاشی طاقت کی تقسیم نئے ممالک کے لیے تعمیری قیادت کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی پالیسیوں، مضبوط اداروں اور متنوع تجارتی تعلقات کی حامل چھوٹی اور درمیانے درجے کی معیشتیں عالمی تجارتی نظام میں استحکام کے فروغ کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ کس طرح فعال تجارتی سفارت کاری اور اسٹریٹجک شراکت داریاں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باوجود عالمی تجارت کی رفتار کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ گفتگو کے دوران اس نکتے پر بھی تبادلہ خیال ہوا کہ آیا عالمی معیشت ایک ایسے نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں تجارتی قیادت کسی ایک طاقت کے بجائے ان ممالک کے درمیان مشترکہ ہو گی جو اعتماد، تسلسل اور تعاون کے عزم کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

شرکاء نے اس تناظر میں عالمی تجارت میں مؤثر قیادت کی خصوصیات اور اس بات پر بھی غور کیا کہ امارات جیسے ممالک مستقبل کے تجارتی اصولوں اور طریقہ کار کی تشکیل میں کس طرح مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ آئندہ دور میں تجارتی قیادت کا انحصار صرف منڈی کے حجم پر نہیں ہوگا بلکہ اعتماد سازی، تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگی اور کاروبار و معاشروں کے لیے حقیقی قدر پیدا کرنے کی صلاحیت پر بھی ہوگا۔

یہ مکالمہ ورلڈ اکنامک فورم 2026 میں متحدہ عرب امارات کی فعال شرکت اور تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی معاشی حکمرانی سے متعلق مباحثوں میں اس کی مسلسل شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈیووس میں اپنی موجودگی کے ذریعے امارات خود کو ایک دوراندیش اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو کھلی تجارت کی حمایت، بین الاقوامی تعاون کے فروغ اور زیادہ متوازن و مستحکم عالمی معیشت کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔