ٹوکیو، 23 جنوری، 2026 (وام) --بینک آف جاپان نے جمعہ کے روز اپنی بینچ مارک شرحِ سود کو تقریباً 0 اعشاریہ 75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کیوڈو نیوز کے مطابق یہ فیصلہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ مرکزی بینک نے دسمبر کے اجلاس میں اپنی کلیدی شرحِ سود کو گزشتہ 30 برس کی بلند ترین سطح تک بڑھایا تھا، اس نتیجے پر پہنچتے ہوئے کہ دو فیصد افراطِ زر کے ہدف کے حصول کے امکانات مضبوط ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بینک آف جاپان اب توقع کرتا ہے کہ جاپانی معیشت رواں مالی سال، جو مارچ میں اختتام پذیر ہو رہا ہے، کے دوران 0 اعشاریہ 9 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی، جبکہ آئندہ مالی سال میں معاشی نمو 1 اعشاریہ 0 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ یہ پیش گوئیاں اکتوبر میں لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں، جب معیشت کی توسیع 0 اعشاریہ 7 فیصد متوقع تھی۔
مرکزی بینک نے افراطِ زر سے متعلق اپنی پیش گوئیوں کو مجموعی طور پر برقرار رکھا ہے، تاہم مالی سال 2026 کے لیے مہنگائی کی شرح میں معمولی نظرثانی کرتے ہوئے اسے 1 اعشاریہ 9 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے، جو سابقہ اندازے سے 0 اعشاریہ 1 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔