انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈ، ہلاکتوں کی تعداد 50 ہوگئی، 33 افراد تاحال لاپتہ

جکارتہ، 28 جنوری، 2026 (وام) -- انڈونیشیا کے مغربی جاوا صوبے میں ہفتے کے آخر میں آنے والے لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 33 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

مغربی جاوا پولیس کے مطابق، ڈیزاسٹر وکٹم آئیڈنٹیفیکیشن ٹیم کو مغربی بندونگ ضلع میں لینڈ سلائیڈ کے مقام سے 50 لاشوں کے تھیلے موصول ہوئے ہیں، جو مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے ملبے سے مزید لاشیں نکالے جانے کے بعد حاصل کیے گئے۔

مغربی جاوا پولیس کے ترجمان ہندرا روچماوان نے بتایا کہ اب تک 50 ہلاکتوں میں سے 34 افراد کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں انڈونیشین میرین کور کے چار اہلکار بھی شامل ہیں۔

انڈونیشین بحریہ کے مطابق، ہفتے کی صبح علی الصبح پہاڑی کے سرکنے سے ٹنوں مٹی اور ملبہ قریبی گاؤں میں بہہ گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 23 میرینز دب گئے تھے۔ نیوی چیف آف اسٹاف ایڈمرل محمد علی نے بتایا کہ اب تک چار میرین اہلکار مردہ حالت میں ملے ہیں، جبکہ باقی اہلکاروں کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

بحریہ کے مطابق، میرینز جمعرات کی رات دیر گئے اس علاقے میں تربیتی مشق کے لیے پہنچے تھے۔ حکام نے بتایا کہ فوج، پولیس اور شہری رضاکاروں پر مشتمل سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں خطرناک حالات کے باعث متاثر ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے ٹیموں کو حفاظتی وجوہات کے پیش نظر وقفے وقفے سے آپریشن معطل کرنا پڑ رہا ہے۔

حکام کے مطابق، انڈونیشیا اپنے پہاڑی جغرافیے، شدید بارشوں اور وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کے باعث نومبر سے مارچ تک جاری رہنے والے برسات کے موسم میں اکثر لینڈ سلائیڈز کا شکار رہتا ہے۔