بیجنگ، 29 جنوری، 2026 (وام) --سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کے ٹیلی کمیونیکیشن شعبے نے 2025 کے دوران مستحکم ترقی کا تسلسل برقرار رکھا، جبکہ ملک بھر میں 5G نیٹ ورک کی توسیع نمایاں رہی۔
وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق 2025 کے اختتام تک چین میں 5G بیس اسٹیشنز کی تعداد 4.838 ملین تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں ہر 10 ہزار افراد پر اوسطاً 34.4 بیس اسٹیشنز دستیاب ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ یہ شرح قومی منصوبہ بندی کے مقررہ ہدف سے 8.4 یونٹس زیادہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال کی قیمتوں پر شمار کیے گئے ٹیلی کمیونیکیشن شعبے کے مجموعی کاروباری حجم میں سال بہ سال 9.1 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران ٹیلی کام کاروباری آمدنی 1.75 ٹریلین یوآن رہی، جو سالانہ بنیاد پر 0.7 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ابھرتے ہوئے شعبے، جن میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بگ ڈیٹا، انٹرنیٹ آف تھنگز اور ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں، مجموعی آمدنی کا 25.7 فیصد حصہ بن چکے ہیں، جو شعبے میں تکنیکی تبدیلی اور تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔
تکنیکی جدت کے میدان میں چین کی پیش رفت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 5G سے متعلق معیاری لازمی پیٹنٹس کے عالمی اعلانات میں چین کا حصہ 42 فیصد ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے ملک نے ہر کاؤنٹی میں گیگابٹ آپٹیکل نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر لی ہے، جبکہ تمام قصبوں اور 95 فیصد سے زائد انتظامی دیہات میں 5G کوریج فراہم کر دی گئی ہے۔