ابوظہبی، 1 فروری، 2026 (وام) --سائبر سیکیورٹی کونسل نے شہریوں کو نشانہ بنانے والے جعلی پیغامات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے ان سے ہونے والے ممکنہ نقصانات پر روشنی ڈالی ہے۔ کونسل نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مکمل ہوشیاری کا مظاہرہ کریں، دھوکہ دہی کی کسی بھی کوشش کی فوری اطلاع دیں، جعلی پیغامات کو فوراً حذف کریں، ان سے کسی قسم کا رابطہ نہ کریں، نامعلوم نمبرز کو بلاک کریں اور متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔
کونسل نے سائبر فراڈ کے خلاف محتاط رہنے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ فشنگ یا ایس ایم ایس پر مبنی فراڈ سے منسلک کسی بھی مشکوک سرگرمی کو فوری طور پر بلاک کیا جانا چاہیے۔ کونسل کے مطابق فراڈیے اب زیادہ جدید اور پیچیدہ طریقے اختیار کر رہے ہیں، جن میں سرکاری یا نیم سرکاری اداروں، معتبر کمپنیوں یا مالیاتی اداروں کا روپ دھار کر صارفین سے ذاتی اور مالی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کسی بھی الیکٹرانک لنک پر کلک کرنے سے قبل اس کے ماخذ کی مکمل تصدیق کی جائے، خصوصاً ایسے پیغامات یا اشتہارات کی صورت میں جن میں ذاتی یا مالی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہو۔
سائبر سیکیورٹی کونسل نے جعلی پیغامات کی شناخت کے لیے چند اہم اشاروں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے پیغامات میں عموماً فوری ردعمل پر زور دیا جاتا ہے، ذاتی نوعیت کا فقدان ہوتا ہے، یہ غیر معمولی یا حد سے زیادہ پرکشش معلوم ہوتے ہیں، اور اکثر نامعلوم نمبرز یا روابط سے موصول ہوتے ہیں۔ جعلی پیغامات کی عام مثالوں میں انعام جیتنے، رقم کی واپسی، بینک اکاؤنٹ کی تصدیق یا خصوصی کریڈٹ کارڈ آفرز سے متعلق پیغامات شامل ہیں۔
کونسل نے واضح کیا کہ فشنگ اور سائبر فراڈ کے خلاف مؤثر جدوجہد کا آغاز انفرادی سطح پر سائبر آگاہی اور مضبوط سائبر سیکیورٹی کلچر کے فروغ سے ہوتا ہے۔ اس ضمن میں صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مشکوک پیغامات کا جواب نہ دیں، بھیجنے والے کو بلاک کریں اور کسی بھی منسلک لنک پر کلک کرنے سے اجتناب کریں۔
ہفتہ وار "سائبر پلس" آگاہی پیغام کے ذریعے بھی عوام کو مستقبل میں جعلی پیغامات سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی عادات اپنانے کی ترغیب دی گئی ہے، جن میں اسپیم بلاک کرنے والی ایپلی کیشنز کا استعمال اور غیر معتبر پیغامات کو باقاعدگی سے حذف کرنا شامل ہے۔
کونسل کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران جعلی پیغامات کے پھیلاؤ میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث صارفین کو سائبر فراڈ کے مزید پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر علم، آگاہی اور جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کو اپنانا ناگزیر ہے، تاکہ اضافی حفاظتی اقدامات ممکن بنائے جا سکیں اور فراڈ کی بروقت اور درست نشاندہی کی جا سکے۔
بیان کے اختتام پر سائبر سیکیورٹی کونسل نے اس بات کی تصدیق کی کہ ڈیجیٹل دنیا میں سائبر سیکیورٹی کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، اور یہ احتیاطی اقدامات تیز رفتار تکنیکی ترقی سے جنم لینے والے ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے کے لیے جاری حکومتی کوششوں کا حصہ ہیں۔