دبئی، 2 فروری، 2026 (وام) --دسویں سالانہ عرب مالیاتی فورم آج مدینت جمیرہ دبئی میں شروع ہوا۔ فورم وزارت خزانہ کے زیر اہتمام عرب مانیٹری فنڈ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ فورم ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2026 کے ابتدائی دن کے حصے کے طور پر منعقد ہو رہا ہے، جس میں عرب ممالک کے وزرائے خزانہ کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ اقتصادی ماہرین اور عہدیداران شریک ہیں۔
فورم کے دوران عرب خطے میں مالیاتی پالیسی کی سمتوں پر عالمی معاشی تبدیلیوں کے تناظر میں تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے، جبکہ اقتصادی ترقی کی ضروریات، مالیاتی پائیداری اور ماحولیاتی اقدامات کے درمیان توازن قائم کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
مباحثے میں مستقبل کی مالیاتی پالیسی کی ترجیحات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جن میں ڈیجیٹلائزیشن کے سرکاری مالیات پر اثرات، حکومتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کے ذریعے حکمرانی کی کارکردگی میں بہتری، سرکاری اخراجات کی اصلاح اور وسائل کی تقسیم کو مضبوط بنانے کے پہلو شامل ہیں۔
شرکاء پائیدار ترقی کے لیے مالیاتی ذرائع اور عرب ممالک کے اقتصادی و ترقیاتی اہداف کے حصول میں علاقائی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے کلیدی کردار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کے اپنانے سے وابستہ مواقع اور چیلنجز پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے، جو مالیاتی شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے اور اس کی مسابقت بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
فورم کے اختتام پر وزارتی گول میز اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں عرب ممالک کے وزرائے خزانہ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عرب مانیٹری فنڈ کی اعلیٰ قیادت شریک ہو گی۔ اجلاس میں ٹیکنالوجی میں پیش رفت، بالخصوص مصنوعی ذہانت، کے سرکاری مالیات کے انتظام پر اثرات پر غور کیا جائے گا، جبکہ عالمی معاشی تبدیلیوں کے تناظر میں مستقبل کے اخراجات کی ترجیحات اور بین الاقوامی بحرانوں کے خطے کی مالیاتی اور اقتصادی پالیسیوں پر اثرات بھی زیر بحث آئیں گے۔