دبئی، 2 فروری، 2026 (وام) --بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق عرب معیشتوں میں آئندہ عرصے کے دوران 3.7 فیصد شرح نمو متوقع ہے، جس کی بنیادی وجوہات تیل کی پیداوار میں اضافہ اور غیر تیل شعبوں کی مسلسل بحالی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی چیلنجز کے باوجود یہ رجحان خطے کی مجموعی معاشی کارکردگی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
سالانہ عرب فِسکل فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جارجیوا نے بتایا کہ عالمی معیشت رواں سال تقریباً 3.2 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی، جو سابقہ تخمینہ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اس بہتری کو عالمی مانگ میں اضافے اور کئی بڑی معیشتوں میں مالی دباؤ میں کمی سے منسوب کیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر افراط زر میں کمی کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ 2026 میں کم ہو کر تقریباً 3.8 فیصد تک آ جائے گا، جبکہ 2027 تک مزید کمی کے ساتھ 3.4 فیصد رہ جائے گا۔ ان کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں کمی اور عالمی سپلائی چینز میں بہتری اس رجحان کے اہم عوامل ہیں۔
عرب معیشتوں کے حوالے سے مثبت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ دو عرب ممالک نے تین سال سے زائد عرصے کے بعد بین الاقوامی قرضہ مارکیٹس میں دوبارہ واپسی کی ہے، جو مضبوط عوامی مالیات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بحالی کی واضح علامت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عرب ممالک کو موصول ہونے والی ترسیلات زر میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سیاحت کے شعبے کی بحالی اور عالمی لیبر مارکیٹس میں بہتری ہے۔ اس اضافے نے کئی عرب ریاستوں میں مالی اور سماجی استحکام کو تقویت دی ہے۔
اسی تناظر میں جارجیوا نے متحدہ عرب امارات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے معیشت کو تنوع پر مبنی ماڈل کے تحت مضبوط بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جہاں غیر تیل سرگرمیاں مجموعی ملکی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد حصہ بن چکی ہیں، جو طویل مدتی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کی عکاس ہے۔
عرب فِسکل فورم کے دوران خطے میں مالیاتی پالیسیوں کے مستقبل، سرکاری ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے عوامی اخراجات کی کارکردگی میں بہتری، پائیدار ترقی کی مالی اعانت، اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔