متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ کانگو کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے پر دستخط

ابوظہبی، 2 فروری، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات کے صدرعزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور جمہوریہ کانگو کے صدر فیلکس تشیسکیدی کی موجودگی میں متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ کانگو نے اپنی اقتصادی شراکت داری کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے سی ای پی اے پر دستخط کے ذریعے باضابطہ شکل دی ہے۔ اس موقع پر صدرِ امارات نے معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ متحدہ عرب امارات کے اس مستقل نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت مؤثر ترقیاتی شراکت داریاں قائم کی جاتی ہیں جو مشترکہ اقتصادی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیتی ہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے مواقع میں اضافہ کرتی ہیں۔

امارات کے صدر نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ کانگو کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی جہت دے گا، تجارتی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ کرے گا، باہمی ترقی کو تقویت دے گا اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کی حمایت کا باعث بنے گا۔

سیپا پر دستخط کی تقریب قصر الشاطی، ابوظہبی میں منعقد ہوئی، جہاں متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی اور جمہوریہ کانگو کے وزیر برائے بین الاقوامی تجارت جولیان پالکو کہونگیا نے معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت محصولات میں کمی اور تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں، جن کے نتیجے میں سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا اور نجی شعبے کے درمیان کان کنی، زراعت اور صاف توانائی سمیت اہم شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

جمہوریہ کانگو کی مجموعی ملکی پیداوار تقریباً 70.75 ارب امریکی ڈالر ہے، جس کے باعث یہ افریقہ کی دس بڑی معیشتوں میں شمار ہوتی ہے۔ کوبالٹ کی عالمی سطح پر سب سے بڑی پیداوار اور برقی گاڑیوں اور توانائی کی منتقلی کے لیے اہم معدنیات کے بڑے ماخذ کی حیثیت سے جمہوریہ کانگو وسطی اور مشرقی افریقہ میں تجارت کے فروغ کے لیے ایک اسٹریٹجک داخلی نقطہ فراہم کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ کانگو کے درمیان غیر تیل تجارت 2025 کے پہلے نو ماہ کے دوران 2.9 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو سال بہ سال 16.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ بڑھتی ہوئی دو طرفہ تجارت کے تناظر میں سی ای پی اے سے اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے، سرحد پار سرمایہ کاری کو سہل بنانے اور دونوں ممالک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کو بااختیار بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ متحدہ عرب امارات اپنی عالمی تجارتی مرکز کی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے جمہوریہ کانگو کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ خوشحالی و پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کے پرعزم غیر ملکی تجارتی ایجنڈے میں ایک اہم اضافہ ہے، جس کا ہدف 2031 تک غیر تیل غیر ملکی تجارت کو 1.1 ٹریلین امریکی ڈالر تک بڑھانا ہے۔ سی ای پی اے پروگرام، جس کے تحت 30 سے زائد معاہدے طے پا چکے ہیں اور 14 پر عمل درآمد جاری ہے، کھلی اور اصولوں پر مبنی عالمی تجارت کے فروغ کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو اقتصادی ترقی اور تنوع کو تقویت دے گا۔

اس موقع پر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور جمہوریہ کانگو کے صدر نے کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے تعاون سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت اور انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی اور جمہوریہ کانگو کی وزارت خارجہ، بین الاقوامی تعاون اور فرانکوفونی کے تحت کانگولیسی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان ایک اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب کی نگرانی بھی کی۔

مفاہمتی یادداشتوں پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے وزیر مملکت شیخ شخبوت بن نہیان النہیان جبکہ جمہوریہ کانگو کی جانب سے وزیر برائے کان کنی لوئس کابامبا اور نائب وزیر خارجہ نوئیلا ایگناگاتو ناکویپونے نے دستخط کیے۔ دونوں ممالک نے سمندری نقل و حمل کے شعبے میں تعاون کے فروغ کا بھی اعلان کیا۔