متحدہ عرب امارات میں 29واں یومِ ماحولیات، پائیدار مستقبل کے عزم کی تجدید

ابوظہبی، 3 فروری، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کل 29واں یومِ ماحولیات منائے گا، جس کے تحت پائیداری کے اصولوں کے فروغ اور ماحول کے تحفظ کے لیے اپنے قومی عزم کی تجدید کی جائے گی۔ اس موقع پر قدرتی وسائل کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور ماحول دوست طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی کے لیے متعدد جدید اقدامات اور حل اجاگر کیے جائیں گے۔

متحدہ عرب امارات نے ماحولیاتی پائیداری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع اور مربوط پالیسی اپنائی ہے، جس میں یو اے ای نیٹ زیرو بائی 2050 اسٹریٹجی، یو اے ای نیشنل کلائمیٹ چینج پلان 2017–2050 اور یو اے ای سرکلر اکانومی پالیسی 2021–2031 جیسے کلیدی فریم ورکس شامل ہیں۔

سال کے آغاز سے ہی متحدہ عرب امارات نے ماحولیاتی تحفظ، صاف توانائی کی منتقلی اور سبز ٹیکنالوجیز میں جدت کے حوالے سے متعدد بڑے اقدامات اور خصوصی منصوبے شروع کیے ہیں، جس سے عالمی سطح پر موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس کی وابستگی مزید مستحکم ہوئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے زرعی اور ویٹرنری قرنطینہ کے فروغ، نئی پودوں کی اقسام کے تحفظ اور نایاب جانوروں و پودوں کی بین الاقوامی تجارت کو منظم کرنے کے لیے وفاقی قوانین کا ایک جامع پیکیج بھی جاری کیا ہے، تاکہ ان شعبوں کے لیے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کو کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ اِن اینڈینجرڈ اسپیشیز آف وائلڈ فونا اینڈ فلورا کے مطابق مزید بہتر بنایا جا سکے۔

ابوظہبی سسٹین ایبلٹی ویک 2026 کے موقع پر متحدہ عرب امارات نے انکشاف کیا کہ ملک میں نصب شدہ قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت 7.7 گیگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ زیرِ تکمیل منصوبوں کے باعث 2031 تک یہ صلاحیت 23 گیگاواٹ سے زیادہ ہونے کی توقع ہے، جو قومی توانائی نظام میں تیز رفتار تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

قومی سطح پر توانائی کے مؤثر استعمال سے متعلق پروگراموں کے نتیجے میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 14.8 ملین ٹن سے زائد کاربن اخراج میں کمی اور 2 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی مالی بچت ممکن ہوئی ہے۔

محمد بن زاید اسپیشیز کنزرویشن فنڈ اور مبادلہ نے متحدہ عرب امارات اور چار دیگر ممالک میں ڈوگونگ اور اس کے سی گراس ہیبی ٹیٹس کے تحفظ کے لیے ایک بڑا نیا اقدام شروع کیا ہے۔ یہ اقدام دو سالہ شراکت داری کا حصہ ہے، جس کے تحت یو اے ای کنزرویشن لیڈرز پروگرام بھی متعارف کرایا جائے گا، جس کا مقصد متحدہ عرب امارات میں ابتدائی کیریئر کے ماہرینِ تحفظ کو معاونت فراہم کرنا ہے۔ دونوں ادارے ایشیا میں دو بین الاقوامی تحفظاتی اقدامات کی بھی مشترکہ حمایت کر رہے ہیں۔

ابوظہبی فیوچر انرجی کمپنی مصدر نے ایلیٹ ایگرو ہولڈنگ کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ کے خطے میں پہلا زرعی فوٹو وولٹائک منصوبہ شروع کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ العین میں ایلیٹ ایگرو کے الفوح فارم پر قائم ہوگا اور پائیدار زراعت اور قابلِ تجدید توانائی کے انضمام کے لیے ایک قابلِ توسیع ماڈل کے طور پر کام کرے گا۔

ماحولیات ایجنسی ابوظہبی نے اپنے سستین ایبل فشریز انڈیکس میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی ہے، جو 2018 میں 8 فیصد تھا اور 2025 کے اختتام تک 100 فیصد تک پہنچ گیا۔ ایجنسی نے ابوظہبی کورل گارڈنز اقدام بھی شروع کیا ہے، جس کے تحت امارت کے ساحلی اور گہرے پانیوں میں 40 ہزار مصنوعی ریف ماڈیولز نصب کیے جائیں گے تاکہ سمندری جانداروں کی افزائش اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ کورل گارڈنز تقریباً 1,200 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوں گے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں قدرتی کورل ریف یا سی گراس ہیبی ٹیٹس موجود نہیں ہیں۔ کئی ماڈیولز میں ابوظہبی کی کورل ریف نرسری میں تیار کردہ زندہ کورل کے ٹکڑے بھی نصب کیے جائیں گے، جو زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے والی اقسام سے منتخب کیے گئے ہیں۔

2025 میں متحدہ عرب امارات نے ماحولیاتی پائیداری کے شعبے میں ایک اور سنگِ میل اس وقت عبور کیا جب ابوظہبی میں دنیا کا پہلا بڑے پیمانے پر چوبیس گھنٹے گیگا اسکیل منصوبہ شروع کیا گیا، جس میں شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج کو یکجا کیا گیا ہے۔

سرکلر اکانومی کے میدان میں بھی پیش رفت جاری ہے، جہاں 2025 میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بیاح نے مشرق وسطیٰ کے پہلے کمرشل اسکیل ہائیڈروجن فرام ویسٹ پلانٹ کے قیام کا اعلان کیا، جو الشجاع، شارجہ میں قائم ہوگا اور 2027 تک یومیہ 7 ٹن پیداواری صلاحیت حاصل کرے گا۔

وزارت توانائی و انفراسٹرکچر نے زراعت اور آبی وسائل کے لیے جیو اسپیشل ڈیٹا پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا ہے، جس سے زرعی شعبے میں زیرِ زمین پانی کے استعمال میں 2 فیصد کمی اور 2027 تک غیر روایتی آبی وسائل کے استعمال میں 8 سے 13 فیصد اضافے کی توقع ہے۔