ابوظہبی، 4 فروری، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات عالمی یومِ انسانی اخوت کے موقع پر رواداری، پرامن بقائے باہمی اور تمام انسانوں کے درمیان مساوات کے فروغ کے لیے اپنے پختہ عزم کی تجدید کر رہا ہے، جو عالمی سطح پر انسانی اقدار کے فروغ میں ملک کے قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ دن 4 فروری 2019 کو ابوظہبی میں انسانی اخوت کے دستاویز پر ہونے والے تاریخی دستخط کی یاد میں منایا جاتا ہے، جسے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔ اس دستاویز نے دنیا بھر میں مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے متعدد بین الاقوامی اقدامات کی بنیاد فراہم کی۔
انسانی اخوت کے دستاویز کے بعد متحدہ عرب امارات نے کئی نمایاں اقدامات کا آغاز کیا، جن میں سعادت جزیرے پر قائم ابراہیمی فیملی ہاؤس خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جہاں ایک مسجد، ایک گرجا گھر اور ایک عبادت خانہ ایک ہی احاطے میں موجود ہیں، جو مذہبی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی عملی مثال ہے۔
اسی سلسلے میں زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کو بھی متحدہ عرب امارات کے اہم ترین اقدامات میں شمار کیا جاتا ہے، جس کا مقصد رواداری اور انسانی بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ یہ ایوارڈ بانیٔ یو اے ای مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے نام سے منسوب ہونے کے باعث خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
ایوارڈ کے ساتویں ایڈیشن 2026 میں جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور جمہوریہ آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشینیان کو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی امن معاہدے کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ افغان لڑکیوں کی تعلیم کی سرگرم علمبردار زرغہ یفتلی اور فلسطینی غیر منافع بخش انسانی تنظیم تعاون کو بھی ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دیا گیا۔
متحدہ عرب امارات ابوظہبی فورم برائے امن کی میزبانی بھی کرتا ہے، جو مسلم معاشروں میں فکری اور فرقہ وارانہ اختلافات سے جنم لینے والے انسانی چیلنجز پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور مکالمے کے فروغ کو اہمیت دیتا ہے۔
مزید برآں متحدہ عرب امارات ہر سال عالمی رواداری اور انسانی اخوت کانفرنس کا انعقاد کرتا ہے۔ رواں سال یہ کانفرنس "مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی اخوت" کے عنوان کے تحت منعقد ہوئی، جس میں 180 سے زائد بین الاقوامی مقررین اور 400 سے زیادہ مذہبی رہنماؤں، مفکرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے شرکت کی۔