بھوٹان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں: وزیر اعظم شیرنگ ٹوبگے

دبئی، 4 فروری، 2026 (وام) --مملکتِ بھوٹان کے وزیر اعظم شیرنگ ٹوبگے نے کہا ہے کہ بھوٹان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور مسلسل فروغ پا رہے ہیں، جبکہ پائیداری، قابل تجدید توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔

ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2026 کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے میدان میں مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دینا بھوٹان کی ترجیحات میں شامل ہے، بالخصوص قابل تجدید توانائی کے شعبے میں، جہاں ملک نمایاں قدرتی صلاحیتوں کا حامل ہے۔

وزیر اعظم کے مطابق بھوٹان کی تیز بہتی ندیاں صاف اور سبز ہائیڈرو پاور کی پیداوار کا ایک اہم ذریعہ ہیں، جسے بعد ازاں سبز ہائیڈروجن کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبز ہائیڈروجن سے سبز کھاد، سبز ایندھن اور بالخصوص سبز ہوابازی کے ایندھن کی پیداوار ممکن ہے، جبکہ ہائیڈرو پاور سبز ڈیٹا سینٹرز اور سبز مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی بنیاد صاف توانائی کی دستیابی سے جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھوٹان کے پاس تقریباً 40 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت موجود ہے، جبکہ اس وقت ملک میں 3,500 میگاواٹ توانائی پیدا کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ 15 برسوں کے دوران مزید 20,000 میگاواٹ قابل تجدید توانائی پیدا کرنے کے منصوبے زیرِ عمل ہیں۔

وزیر اعظم نے بھوٹان کی مضبوط ماحولیاتی ساکھ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک حیاتیاتی تنوع کا ایک اہم مرکز ہے اور اس کا تقریباً 70 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھوٹان ایک کاربن منفی ملک ہے، جو جتنا کاربن خارج کرتا ہے اس سے پانچ گنا زیادہ جذب کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ شراکت داری قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری اور صاف توانائی استعمال کرنے والی صنعتوں میں مشترکہ تعاون کے ذریعے بھوٹان کو اس ماحولیاتی ریکارڈ کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔

وزیر اعظم نے سیاحت کو بھی تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر اجاگر کیا اور کہا کہ بھوٹان کا سیاحتی ماڈل اعلیٰ معیار اور کم ماحولیاتی اثرات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھوٹان مزید اماراتی سیاحوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہمالیائی خطے میں ویلنیس سیکٹر میں متحدہ عرب امارات سے سرمایہ کاری کے مواقع کا خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کاربن کریڈٹس کی تجارت اور نامیاتی کاشتکاری سمیت دیگر شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، جو بھوٹان کی ماحولیاتی تحفظ سے متعلق کامیابیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کر سکتے ہیں۔

ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2026 میں اپنی شرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سمٹ دوطرفہ تعلقات کے فروغ، خیالات کے تبادلے اور حکمرانی کے مستقبل پر غور و فکر کے لیے ایک مؤثر عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فورم سے انہیں قیادت کے وژن، مستقبل کی حکمرانی اور پالیسی سازی کے حوالے سے قیمتی اسباق حاصل ہوتے ہیں، جبکہ بھوٹان کی ترقیاتی کہانی اور اس کے سفر سے حاصل ہونے والے تجربات کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔