اقوام متحدہ کا مصنوعی ذہانت پر آزاد عالمی سائنسی پینل قائم کرنے کا اعلان

نیویارک، 5 فروری، 2026 (وام) --اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے جنرل اسمبلی کو دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے 40 نمایاں بین الاقوامی ماہرین کی فہرست پیش کر دی ہے، جن میں متحدہ عرب امارات سے توکا الہنائی بھی شامل ہیں، تاکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل کے قیام کی تیاری کی جا سکے۔ انہوں نے اس اقدام کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا کہ مصنوعی ذہانت پوری انسانیت کی خدمت کرے۔

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں جاری بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اس پینل کا قیام رکن ممالک کی جانب سے منظور کیے گئے ’’پیکٹ فار دی فیوچر‘‘ کے مینڈیٹ کے براہ راست جواب میں کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے کثیرالجہتی حل کو مضبوط بنانا ہے، جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو تیزی سے متاثر کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پینل دنیا کا پہلا مکمل طور پر آزاد عالمی سائنسی ادارہ ہوگا، جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود علمی خلا کو پُر کرنے اور معیشتوں و معاشروں پر اس کے حقیقی اثرات کا جامع جائزہ لینے کے لیے وقف ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی بے مثال رفتار کے تناظر میں اس نوعیت کے سائنسی فریم ورک کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مطابق مصنوعی ذہانت غیر معمولی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور کوئی بھی ملک اکیلا اس کی مکمل تصویر نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر حفاظتی اقدامات کے قیام، مشترکہ بھلائی کے لیے جدت کے فروغ اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ فہم ناگزیر ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مصنوعی ذہانت دنیا کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے، جبکہ مجوزہ پینل حقائق اور غلط معلومات، مستند سائنس اور غیر معتبر مواد کے درمیان فرق واضح کرنے میں مدد فراہم کرے گا اور ایک قابل اعتماد و غیر جانبدار حوالہ بنے گا، ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت کی درست تفہیم غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

انتونیو گوتریس نے بتایا کہ پینل کے ارکان کا انتخاب عالمی سطح پر کھلی درخواست کے ذریعے کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2,600 سے زائد نامزدگیاں موصول ہوئیں۔ مجوزہ فہرست میں مشین لرننگ، ڈیٹا گورننس، صحت عامہ، سائبر سیکیورٹی، بچوں کی نشوونما اور انسانی حقوق سمیت مختلف شعبوں میں گہرے تجربے کے حامل ماہرین شامل ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ پینل کے تمام ارکان ذاتی حیثیت میں اور کسی بھی حکومت، کمپنی یا ادارے سے مکمل آزادی کے ساتھ خدمات انجام دیں گے۔ ان کے مطابق پینل تیز رفتار ٹائم لائن کے تحت کام کرے گا اور اس کی پہلی رپورٹ جولائی میں منعقد ہونے والے مصنوعی ذہانت کی حکمرانی پر عالمی مکالمے میں بروقت شراکت کے لیے جاری کیے جانے کی توقع ہے۔