ابوظہبی، 8 فروری، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات میں موسمِ سرما کے کھیلوں نے حالیہ برسوں کے دوران نمایاں ترقی کی ہے اور بین الاقوامی مقابلوں میں قابل ذکر نتائج حاصل کیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک مربوط ترقیاتی حکمت عملی کے تحت سامنے آئی ہے، جس کا مقصد ٹیلنٹ کی شناخت، قومی ٹیموں کو مضبوط بنانا اور براعظمی و عالمی چیمپئن شپ کی میزبانی کرنا ہے۔
2001 میں انٹرنیشنل آئس ہاکی فیڈریشن میں شمولیت کے بعد یو اے ای نے بین الاقوامی شراکت داری قائم کی، مہارتوں کے تبادلے کو فروغ دیا اور عالمی ترقیاتی پروگراموں میں فعال شرکت کی، جس کے نتیجے میں قومی ٹیموں کی علاقائی اور بین الاقوامی مقابلوں میں مستقل موجودگی کو تقویت ملی۔
یو اے ای کی قومی آئس ہاکی ٹیم ہر سال آئس ہاکی ورلڈ چیمپئن شپ میں اور ہر چار سال بعد ایشین ونٹر گیمز میں شرکت کرتی ہے۔ خواتین کی قومی ٹیم سالانہ ایشین چیلنج کپ میں حصہ لیتی ہے، جبکہ انڈر 20 یوتھ ٹیم بھی ہر سال براعظمی سطح کے مقابلوں میں شرکت کرتی ہے، جو بین الاقوامی شرکت کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔
جدید انفراسٹرکچر اور سہولیات نے موسمِ سرما کے کھیلوں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جن کے ذریعے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی میزبانی، ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ پروگراموں کا اجرا اور خواتین کی شرکت کو فروغ دیا گیا ہے، جو آئس اسپورٹس کے عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔
آئس ہاکی کو متحدہ عرب امارات میں دسمبر 1998 میں باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا، جس کے بعد یہ کھیل ابوظہبی، العین اور دبئی کے نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوا۔ اس کی اہم وجوہات میں آئس رِنکس کی دستیابی اور آئس اسپورٹس کھیلنے والے ممالک کے رہائشیوں کی موجودگی شامل ہے۔
قومی ٹیم کی تیز رفتار ترقی اور عوامی دلچسپی کے باعث ابوظہبی نے 2009 میں ایشین چیلنج کپ کی میزبانی کی، جو ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس مقابلے میں یو اے ای نے ٹائٹل جیتا، جس کے بعد ابوظہبی آئس ہاکی کلب قائم کیا گیا، جسے بعد ازاں ابوظہبی ونٹر اسپورٹس کلب کا نام دیا گیا۔
بین الاقوامی کامیابیوں میں 1999 میں ہانگ کانگ ایشین چیمپئن شپ میں پہلی پوزیشن، 2000 میں دوسری پوزیشن اور 2022 میں کویت میں منعقدہ گلف گیمز میں گولڈ میڈل شامل ہیں۔ عالمی سطح پر یو اے ای نے 2023 میں ترکی میں آئس ہاکی ورلڈ چیمپئن شپ ڈویژن ٹو، 2022 اور 2019 میں لکسمبرگ میں ڈویژن تھری، 2021 میں ایشین پیرا آئس اسکی چیمپئن شپ اور 2017 میں دسویں ایشین آئس ہاکی چیمپئن شپ جیتی۔ ٹیم نے سربیا میں ورلڈ چیمپئن شپ ڈویژن ٹو اے اور 2024 میں ایشیا۔اوشینیا چیمپئن شپ میں تیسری پوزیشن بھی حاصل کی۔
سرمائی کھیلوں میں کامیابیوں کا دائرہ دیگر شعبوں تک بھی پھیل گیا ہے، جہاں یو اے ای نے پہلی بار 2026 میں فری اسٹائل اسکیٹنگ ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی کیا، جبکہ فروری 2026 میں اٹلی کے شہر کورٹینا میں ہونے والے ونٹر ورلڈ گیمز میں اسکیئنگ مقابلوں کے لیے بھی کوالیفکیشن حاصل کی۔
یو اے ای ونٹر اسپورٹس فیڈریشن کے نائب صدر حامد احمد القبیسی نے کہا کہ فیڈریشن منظم منصوبہ بندی، مقابلوں اور ٹیلنٹ کی شناخت کے ذریعے سرمائی کھیلوں کی ترقی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے لا رہی ہے جو بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل جمعہ الظہری نے کہا کہ یہ کامیابیاں مسلسل کوششوں اور واضح حکمت عملی کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد سرمائی کھیلوں کو عالمی سطح پر مستحکم مقام دلانا ہے، جس میں خواتین کی شمولیت، قومی ٹیموں کی مضبوطی، مقامی مقابلوں کے دائرہ کار میں توسیع اور بین الاقوامی فیڈریشنز کے ساتھ تعاون پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔