دبئی، 11 فروری، 2026 (وام) --دبئی ایئرپورٹس نے اعلان کیا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 2025 کے دوران 95 اعشاریہ 2 ملین مسافروں کا خیرمقدم کیا، جو سال بہ سال 3 اعشاریہ 1 فیصد اضافہ ہے۔ یہ ایئرپورٹ کی تاریخ کا مصروف ترین سال ثابت ہوا اور کسی بھی ہوائی اڈے کی جانب سے ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ سالانہ بین الاقوامی مسافر ٹریفک بھی قرار پایا۔
اعلامیے کے مطابق 2025 کسی ایک وقتی عروج کا سال نہیں تھا بلکہ پورے سال ریکارڈ سطح کی مسلسل کارکردگی برقرار رہی۔ دبئی انٹرنیشنل نے اپنی تاریخ کا مصروف ترین دن، مہینہ، سہ ماہی اور سال ریکارڈ کیا اور عملی گنجائش کی حد پر کام کرتے ہوئے بھی آپریشنل عمدگی کو یقینی بنایا ہے۔
دسمبر ایئرپورٹ کی تاریخ کا سب سے مصروف مہینہ رہا، جس میں 8 اعشاریہ 7 ملین مسافروں کی آمد و رفت ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 اعشاریہ 1 فیصد زیادہ ہے۔ چوتھی سہ ماہی میں 25 اعشاریہ 1 ملین مسافروں نے سفر کیا، جو 2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 5 اعشاریہ 9 فیصد اضافہ ہے۔ اس عرصے میں پروازوں کی تعداد 118 ہزار تک پہنچ گئی، جب کہ سالانہ مجموعی پروازیں 4 لاکھ 54 ہزار 800 رہیں، جو 3 اعشاریہ 3 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
فی پرواز اوسط مسافروں کی تعداد 214 رہی، جو بڑے طیاروں کے استعمال اور بہتر نشست بھراؤ کی عکاس ہے۔ سالانہ لوڈ فیکٹر 77 اعشاریہ 6 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
دبئی انٹرنیشنل نے 2025 میں 86 اعشاریہ 75 ملین بیگز مؤثر انداز میں سنبھالے، جو سال بہ سال 4 اعشاریہ 95 فیصد اضافہ ہے اور ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ سامان کی ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ ہے۔ 89 فیصد آنے والا سامان طیارے کے پارک ہونے کے 45 منٹ کے اندر مسافروں کو فراہم کیا گیا۔ مس ہینڈلڈ بیگیج کی کارکردگی 99 اعشاریہ 75 فیصد رہی، جو ہر ایک ہزار مسافروں پر 2 اعشاریہ 47 بیگز کے مساوی ہے۔
مسافروں کی امیگریشن اور سیکیورٹی جانچ کے اوقات بھی مستحکم رہے۔ 99 اعشاریہ 35 فیصد مسافروں نے روانگی پاسپورٹ کنٹرول پر 10 منٹ سے کم انتظار کیا، جبکہ 98 اعشاریہ 8 فیصد نے آمد پر 15 منٹ سے کم انتظار کیا۔ 98 اعشاریہ 9 فیصد مسافروں کے لیے سیکیورٹی چیک کا انتظار پانچ منٹ سے کم رہا۔
اہم ممالک میں بھارت 11 اعشاریہ 9 ملین مسافروں کے ساتھ بدستور سرفہرست رہا۔ اس کے بعد سعودی عرب 7 اعشاریہ 5 ملین، برطانیہ 6 اعشاریہ 3 ملین، پاکستان 4 اعشاریہ 3 ملین اور امریکہ 3 اعشاریہ 3 ملین مسافروں کے ساتھ نمایاں رہے۔ چین، روس، ترکی، مصر اور اٹلی سمیت کئی منڈیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
شہری مقامات میں لندن 3 اعشاریہ 9 ملین مسافروں کے ساتھ سب سے مصروف منزل رہا، اس کے بعد ریاض 3 ملین، ممبئی اور جدہ 2 اعشاریہ 4 ملین فی کس اور نئی دہلی 2 اعشاریہ 2 ملین کے ساتھ شامل رہے۔
2025 کے اختتام تک دبئی انٹرنیشنل 110 ممالک کے 291 مقامات سے منسلک تھا اور 108 بین الاقوامی فضائی کمپنیاں یہاں خدمات فراہم کر رہی تھیں، جس سے اس کی حیثیت دنیا کے سب سے زیادہ عالمی سطح پر منسلک ہوابازی مراکز میں مزید مستحکم ہوئی۔
اس موقع پر دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پال گریفتھس نے کہا کہ ہوائی اڈوں کو اکثر مصروف لمحات سے پہچانا جاتا ہے، مگر اصل کارکردگی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ ان لمحات کو کس تسلسل سے برقرار رکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق 2025 میں دبئی انٹرنیشنل نے ثابت کیا کہ ریکارڈ مسافر ٹریفک اب استثنا نہیں بلکہ معمول کا حصہ بن چکی ہے، جو مضبوط نظام اور ون ڈی ایکس بی کمیونٹی کے باہمی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔