ابوظبی، 12 فروری، 2026 (وام) --نیو یارک یونیورسٹی ابوظہبی کے مبادلہ عربی مرکز برائے موسمیاتی و ماحولیاتی سائنسز کی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بحیرۂ عرب میں سطحِ سمندر کے غیر معمولی طور پر بلند درجۂ حرارت نے 16 اپریل 2024 کو متحدہ عرب امارات میں ہونے والی غیر معمولی شدید بارشوں کو مزید شدت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
مطالعے کے مطابق جب ایک موسمی نظام خطے سے گزرا تو اس نے سمندر کے معمول سے زیادہ گرم پانی کے باعث فضا میں موجود اضافی نمی سے فائدہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں دبئی، العین اور ابوظہبی سمیت متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں میں زیادہ طاقتور گرج چمک کے طوفان اور شدید بارشیں ہوئیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ بڑے پیمانے کی فضائی حرکیات اس واقعے کی تشکیل میں مؤثر رہیں، تاہم سطحِ سمندر کے بلند درجۂ حرارت نے نمی کی دستیابی میں اضافہ کر کے اس بات پر نمایاں اثر ڈالا کہ بارش کہاں اور کتنی ہوئی۔
عددی ماڈلنگ اور سیٹلائٹ مشاہدات کو یکجا کرتے ہوئے محققین نے واضح کیا کہ 16 اپریل سے قبل کے دنوں میں سطحِ سمندر کے نسبتاً زیادہ درجۂ حرارت نے فضا میں نمی بڑھا دی، جس کے نتیجے میں خلیجِ عرب کے خطے میں زیادہ شدید کنویکٹیو طوفان تشکیل پائے۔ تجزیے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اگر سمندر کا درجۂ حرارت کم ہوتا تو بارش کا ایک حصہ متحدہ عرب امارات میں نہیں بلکہ مزید شمال میں زاگرس پہاڑی سلسلے کے اوپر برستا۔
مبادلہ ایکسیس کے محقق اور تحقیق کے مرکزی مصنف باسط خان نے کہا کہ “ہمارے نتائج واضح کرتے ہیں کہ سمندری حالات علاقائی موسمی نظاموں اور بارش کے پیٹرن کو کس طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ ان باہمی تعاملات کو بہتر طور پر سمجھ کر ہم خطے میں موسمی پیش گوئی اور پیشگی تیاری کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔”
یہ تحقیق نیو یارک یونیورسٹی ابوظہبی کے مبادلہ ایکسیس سے وابستہ باسط خان، سبروتا ہالدر، زوہیر لاچکار، فرانچیسکو پاپاریلا اور اولیور پالیوس نے انجام دی۔ مطالعے میں خشک خطّوں میں موسم کی تشکیل کے عمل میں سمندر اور فضا کے باہمی تعامل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور موسمیاتی و موسمی ماڈلز کو مزید مؤثر بنانے کی جاری کوششوں میں اسے ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ بصیرتیں مستقبل کی پیش گوئی، خطرات کے جائزے اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں، جو متحدہ عرب امارات اور وسیع تر خطے میں موسمیاتی لچک بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
مبادلہ ایکسیس کے شریک مرکزی محقق اور ریاضی کے پروفیسر اولیور پالیوس نے کہا کہ، “ہمارا کام اس سائنسی فہم میں اضافہ کرتا ہے کہ بڑے پیمانے کے ماحولیاتی عوامل علاقائی موسم کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔ مضبوط پیش گوئی کے اوزار تیار کرنے اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کی حمایت کے لیے یہ علم ناگزیر ہے۔”
تحقیقی نتائج کے مطابق علاقائی موسمیاتی نظاموں پر مزید تحقیق اور خلیجِ عرب میں موسم کی تبدیلی پر سمندری حالات کے کردار کو سمجھنا اہم ہے، تاکہ موسم کی تغیر پذیری سے متعلق فہم میں بہتری لائی جا سکے۔