نیویارک، 17 فروری، 2026 (وام) --اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے ایریا سی میں زمین کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے بیان میں کہا کہ اس اقدام سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور علاقے میں اسرائیلی کنٹرول کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی اور اس نوعیت کے اقدامات صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر رہے ہیں اور بین الاقوامی عدالت برائے انصاف کے مطابق غیر قانونی ہیں۔
دوجارک کے مطابق سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ اقدامات فوری طور پر واپس لے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ زمینی حقائق میں جاری تبدیلیاں دو ریاستی حل کے امکانات کو بتدریج کمزور کر رہی ہیں۔
ترجمان نے زور دے کر کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں قائم تمام اسرائیلی آبادیاں بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور انہیں قانونی حیثیت حاصل نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ پائیدار امن کے حصول کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی راہ اختیار کریں۔