یو اے ای اور گابون کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے فروغ پر اتفاق، غیر تیل تجارت میں نمایاں اضافہ

لیبریویل، گابون، 17 فروری، 2026 (وام) --جمہوریہ گابون کے صدر بریس اولیگی نگویما نے متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی سے سرکاری دورے کے دوران ملاقات کی، جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈاکٹر الزیودی نے ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کی قیادت کرتے ہوئے دارالحکومت لیبریویل میں گابونی اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی نشاندہی کرنا اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان روابط کو فروغ دینا تھا۔

یہ دورہ متحدہ عرب امارات اور گابون کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے پر دستخط کے بعد عمل میں آیا، جس کا مقصد غیر تیل تجارت کو تیز رفتار بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت محصولات میں کمی، تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ اور خدمات کے شعبے میں منڈی تک بہتر رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس پیش رفت سے سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت کا حجم 320.7 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2021 کے مقابلے میں دوگنے سے بھی زیادہ ہے اور حالیہ برسوں میں باہمی تعلقات میں مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔

دورے کے دوران اماراتی وفد نے گابون کے متعدد وزراء اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں وزیر معیشت تھیری مینکو، وزیر معدنیات و ارضی وسائل سوسٹین نگویما، وزیر پیٹرولیم و گیس کلوتائر کونجا، وزیر توانائی فلیپ تونانگوئے، وزیر زراعت و دیہی ترقی پاکومے کوسی، وزیر صحت ایلسا بیویگو اور صدارتی کابینہ کے ڈائریکٹر آرتھر لیمامی شامل تھے۔

ڈاکٹر ثانی الزیودی کے مطابق یہ دورہ دوطرفہ اقتصادی شراکت داری میں حاصل ہونے والی پیش رفت پر استوار ہے اور تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات گابون کے ساتھ طویل المدتی تعاون کو فروغ دینے اور جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کے ذریعے باہمی روابط کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

مذاکرات کے دوران زراعت، لاجسٹکس، قابل تجدید توانائی اور ڈیجیٹل تجارت سمیت ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر زور دیا گیا، جو متحدہ عرب امارات کی اقتصادی تنوع کی حکمت عملی اور افریقی منڈیوں کے ساتھ بڑھتے روابط کے مطابق ہے۔

دورے کا اختتام دونوں ممالک کے اس عزم کی تجدید پر ہوا کہ وہ دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے مشترکہ ترجیحات کو عملی اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کریں گے۔

وفد میں متحدہ عرب امارات کی اہم صنعتوں کے نمائندگان شامل تھے، جو گابون میں زراعت، معدنیات، تیل و گیس، دفاع، توانائی، ہوا بازی، صحت، سمندری نقل و حمل اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں بڑھتی ہوئی تجارتی دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔