آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ کی اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت، دو ریاستی حل کو خطرہ قرار

ابوظہبی، 17 فروری، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات، جمہوریہ ترکیہ، عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی مملکت اردن، جمہوریہ انڈونیشیا، اسلامی جمہوریہ پاکستان، مملکت سعودی عرب اور ریاست قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی اراضی کو نام نہاد "ریاستی زمین" قرار دینے اور 1967 کے بعد پہلی بار وسیع علاقوں میں زمین کی ملکیت کی رجسٹریشن اور آبادکاری کے طریقہ کار کی منظوری دینے کے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ مؤقف میں کہا کہ یہ اقدام غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو تیز کرنے، فلسطینی اراضی کی ضبطی، اسرائیلی کنٹرول کو مستحکم کرنے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی خودمختاری مسلط کرنے کی سنگین کوشش ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابل تنسیخ حقوق کو نقصان پہنچاتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون، خصوصاً چوتھے جنیوا کنونشن، نیز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بالخصوص قرارداد 2334، کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی عدالت انصاف کی اس مشاورتی رائے سے بھی متصادم ہے جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی، تاریخی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور طاقت کے ذریعے زمین کے حصول کی ممانعت پر زور دیا گیا ہے۔

وزرائے خارجہ نے اس اقدام کو مقبوضہ اراضی پر ایک نئی قانونی و انتظامی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے دو ریاستی حل کے امکانات مزید کمزور ہوں گے، ایک آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ مسدود ہوگی اور خطے میں منصفانہ و جامع امن کا حصول خطرے میں پڑ جائے گا۔

انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی، آبادیاتی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کے تمام یکطرفہ اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا اور خبردار کیا کہ ایسی پالیسیاں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافے کا سبب بنیں گی۔

وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ان خلاف ورزیوں کو روکنے، بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانے اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق، خصوصاً 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر آزاد ریاست کے قیام کے حق، کے تحفظ کے لیے واضح اور مؤثر اقدامات کرے۔