یو اے ای فلوٹنگ ہسپتال میں غزہ سے منتقل 13 سالہ بچی کا علاج جاری

العريش، 18 فروری، 2026 (وام) -- العريش میں قائم متحدہ عرب امارات کے فلوٹنگ ہسپتال میں غزہ پٹی سے منتقل کی گئی 13 سالہ فلسطینی بچی سما محمد ابراہیم الغریز کو خصوصی طبی دیکھ بھال فراہم کی جا رہی ہے۔ بچی کو انسانی امدادی اقدام آپریشن 'الفارس الشهم 3' کے تحت مصر منتقل کیا گیا، جو فلسطینی مریضوں اور زخمیوں کے لیے متحدہ عرب امارات کی مسلسل انسانی ہمدردی اور طبی معاونت کا حصہ ہے۔

طبی ٹیم کے مطابق سما ای ٹائپیکل ہیمولائٹک یوریمک سنڈروم نامی نایاب مرض میں مبتلا ہے، جس کے لیے مسلسل نگرانی اور خصوصی علاج ناگزیر ہے۔ معالجین نے بتایا کہ علاج کے منصوبے کے تحت ہر دو ماہ بعد مخصوص انجیکشن دیا جا رہا ہے، جبکہ منظور شدہ طبی پروٹوکول کے مطابق باقاعدہ معائنے اور فالو اپ بھی جاری ہے تاکہ پیچیدگیوں سے بچاؤ یقینی بنایا جا سکے۔

فلوٹنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غزہ سے آنے والے مریضوں کے استقبال اور علاج کے لیے تمام سہولیات ہمہ وقت تیار ہیں اور خدمات اعلیٰ ترین طبی معیارات کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے انسانی ہمدردی کے مستقل اور ثابت قدم جذبے کا مظہر ہے، جس کا مقصد مشکل حالات سے دوچار فلسطینی عوام کی معاونت اور ان کی تکالیف میں کمی لانا ہے۔

سما کی داستان غزہ میں فوری طبی امداد کے منتظر بے شمار بچوں کی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے اور اس امر کو اجاگر کرتی ہے کہ آپریشن 'الفارس الشهم 3' کے تحت انسانی اور طبی امداد کا تسلسل جانوں کے تحفظ اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے ناگزیر ہے۔