نیویارک، 19 فروری، 2026 (وام) --اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی برائے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کے استعمال کے بیورو نے مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں اسرائیل کی جانب سے اراضی کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری دیگر غیر قانونی پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
بدھ کو جاری بیان میں کمیٹی نے واضح کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقہ، بشمول مشرقی یروشلم، کو اس کی قانونی حیثیت، آبادیاتی تناسب یا جغرافیائی سالمیت تبدیل کرنے کے کسی بھی اقدام کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کی تمام پالیسیاں اور اقدامات کالعدم اور باطل ہیں، جبکہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آبادیاں اور آبادکاری سے متعلق اقدامات کسی قانونی جواز کے حامل نہیں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف بھی اس مؤقف کی غیر مبہم طور پر توثیق کر چکی ہے۔
بیورو نے خبردار کیا کہ آبادکاری کی توسیع، اراضی پر قبضہ، جبری بے دخلی اور عملی الحاق جیسے اقدامات فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حق خودارادیت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور خطے میں امن کی کوششوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
کمیٹی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام اقدامات کو فوری طور پر بند کرے اور واپس لے، اور بین الاقوامی قانون کے تحت عائد اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ احتساب کو یقینی بنانے اور منصفانہ و پائیدار امن کے امکانات کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے۔