ابوظہبی، 22 فروری، 2026 (وام) --سائبر سیکیورٹی کونسل نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اہم یا ذاتی نوعیت کی معلومات شائع کرنے یا شیئر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ حساس معلومات کی غیر محتاط اشاعت افراد کو مختلف اقسام کے فراڈ اور سائبر جرائم کا نشانہ بنا سکتی ہے۔
کونسل کے مطابق اس نوعیت کا ڈیٹا ہدفی دھوکہ دہی کی اسکیمیں تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس سے آن لائن نجی زندگی کے تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ معلومات شیئر کرتے وقت احتیاط برتنا سائبر حملوں اور مالی دھوکہ دہی کی کارروائیوں کے امکانات کو کم کرتا ہے، جو افراد، کمپنیوں اور اداروں کے اثاثوں کی چوری کے لیے کی جاتی ہیں۔
کونسل نے نشاندہی کی کہ تقریباً 40 فیصد صارفین نے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی ذاتی تفصیلات حد سے زیادہ شیئر کرنے کے باعث پرائیویسی کی خلاف ورزی کا سامنا کیا۔ غیر ذمہ دارانہ انداز میں معلومات کی فراہمی چوری، سائبر فراڈ اور شناخت کی چوری کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیتی ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ بظاہر معمولی سمجھی جانے والی معلومات بھی، جب عوامی طور پر شیئر کی جائیں، دھوکہ دہی کی اسکیموں میں استعمال ہو سکتی ہیں۔ صارفین کو ہدایت کی گئی کہ وہ گھر یا دفتر کے پتے، ذاتی فون نمبرز، سفر کے منصوبوں کی تفصیلات اور نجی یا خاندانی تصاویر شیئر کرنے سے اجتناب کریں۔
سائبر سیکیورٹی کونسل نے زور دیا کہ ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور شناخت کی چوری کی روک تھام میں ہر فرد کا کردار اہم ہے۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے، ذاتی و پیشہ ورانہ استعمال کے موبائل آلات کی حفاظت یقینی بنانے اور ڈیجیٹل آگاہی میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
کونسل نے مشورہ دیا کہ سافٹ ویئر کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھا جائے، کیمرے، مائیکروفون اور لوکیشن سروسز تک رسائی محدود کی جائے، مضبوط پاس ورڈز اختیار کیے جائیں، کثیر مرحلہ جاتی توثیق استعمال کی جائے اور محفوظ آن لائن طرزِ عمل اپنایا جائے تاکہ سائبر فراڈ سے بچاؤ ممکن ہو اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ صارفین اپنی آن لائن عادات کا جائزہ لیں، معلومات شیئر کرنے سے پہلے اس کی نوعیت کی تصدیق کریں اور ایسے مواد سے گریز کریں جو شناخت کی چوری یا پرائیویسی کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتا ہو۔ غیر محفوظ پلیٹ فارمز سے اجتناب، اکاؤنٹس کی باقاعدہ نگرانی اور موصول ہونے والے پیغامات کی احتیاط سے تصدیق بھی ناگزیر قرار دی گئی، خصوصاً ایسے وقت میں جب فراڈ کرنے والے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مالی اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کونسل نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سائبر سیکیورٹی ڈیجیٹل دور کا ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم احتیاطی تدابیر اور ذمہ دارانہ رویہ حکومتی اقدامات کے ساتھ مل کر تیز رفتار تکنیکی ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اسی سلسلے میں کونسل کی جانب سے مسلسل دوسرے سال سوشل میڈیا پر شروع کی گئی "سائبر پلس" آگاہی مہم، محفوظ سائبر اسپیس کے قیام کے قومی ہدف کی حمایت کرتی ہے۔ یہ اقدام ملک کے ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کو مستحکم کرنے، سائبر سیکیورٹی کلچر کو فروغ دینے، خاندانوں اور افراد میں ڈیجیٹل شعور بیدار کرنے اور تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلی کے دوران شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی اور پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے قومی وژن سے ہم آہنگ ہے۔