واشنگٹن، 25 فروری، 2026 (وام) --نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے اپنے واشنگٹن کے ورکنگ دورے کے دوران امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک سے ملاقات کی، جس میں متحدہ عرب امارات اور ریاستہائے متحدہ کے درمیان تجارتی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر بات چیت کی گئی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ترجیحی شعبوں، بالخصوص جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں شراکت داری کو مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کی گہرائی اور مستقبل کی سمت کا مظہر ہے۔
گفتگو کے دوران "پیکس سلیکا" کے تحت ممکنہ تعاون بھی زیر بحث آیا۔ یہ امریکی قیادت میں ایک بین الاقوامی اقدام ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے دور میں کلیدی اہمیت رکھنے والی ٹیکنالوجیز کے لیے محفوظ، مضبوط اور اختراعی سپلائی چینز کی تشکیل ہے۔ اس میں بالخصوص سلیکان اور اہم معدنیات کی دستیابی کو یقینی بنانا شامل ہے، جو چِپس سازی، جدید کمپیوٹنگ اور دیگر ہائی ٹیک نظاموں کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔
اس موقع پر شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ ریاستہائے متحدہ، متحدہ عرب امارات کا ایک بنیادی اسٹریٹجک شراکت دار ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون میں مسلسل معیاری پیش رفت ہو رہی ہے، جو دیرینہ تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشترکہ کاوشوں کے ذریعے تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے، جو باہمی مفادات کے تحفظ اور پائیدار خوشحالی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ملاقات میں وزیر مملکت سعید مبارک الحاجری اور امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف منیع العتیبہ بھی موجود تھے۔