انسانی حقوق کونسل میں امارات کا مؤقف، خواتین و بچوں کے حقوق کے تحفظ اور کثیرالجہتی تعاون پر زور

جنیوا، 26 فروری، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات نے خواتین کو بااختیار بنانے، صنفی مساوات کے فروغ اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ عالمی سطح پر مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے مکالمے اور باہمی احترام پر مبنی کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔

یہ مؤقف اقوام متحدہ اور جنیوا میں دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں امارات کے سفیر اور مستقل نمائندے جمال المشرخ نے انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیش کیا۔

جمال المشرخ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات انسانی حقوق کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں خواتین کے قائدانہ کردار کو مضبوط بنانا، لڑکیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنانا اور بچوں کے حقوق کی حمایت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کو پائیدار ترقی کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

سفیر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات انسانی حقوق کونسل کی 2028-2030 مدت کے لیے رکنیت کا خواہاں ہے، جو عالمی سطح پر انسانی حقوق کے ایجنڈے میں فعال کردار ادا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

جمال المشرخ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ بڑھتے ہوئے عالمی بحرانوں کے تناظر میں انتہا پسند نظریات اور نفرت انگیز تقاریر کا مقابلہ مؤثر اور مربوط اقدامات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ضروری ہے۔

غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے جمال المشرخ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ اجلاس کے دوران غزہ کے لیے 1.2 ارب امریکی ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد امارات غزہ کے لیے سب سے بڑے امدادی عطیہ دہندگان میں شامل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق اس امداد کا مقصد بگڑتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے میں عملی مدد فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امارات انسانی سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، جس کی ایک مثال روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں سہولت کاری ہے۔ ان کے مطابق ان اقدامات نے امارات کی حیثیت ایک قابل اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر مستحکم کی ہے۔

سوڈان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ جاری خانہ جنگی کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو بعض متحارب عناصر کی جانب سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک فریق عالمی پلیٹ فارمز کو سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور جھوٹے الزامات عائد کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔