رمضان کے موقع پر امارات کے عالمی انسانی اقدامات، غزہ اور بچوں کی غذائی سلامتی پر خصوصی توجہ

ابوظہبی، 26 فروری، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات نے ماہِ رمضان کے آغاز پر عالمی سطح پر انسانی اقدامات اور فلاحی مہمات کا جامع سلسلہ شروع کیا ہے، جو ہمدردی، رواداری اور سخاوت کی قومی اقدار کے عملی اظہار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ اقدامات مختلف براعظموں تک پھیلے ہوئے ہیں اور ضرورت مند طبقات، خصوصاً بچوں اور بحران زدہ کمیونٹیز، کو ہدف بنا رہے ہیں۔

نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ’11.5: ایج آف لائف‘ کے عنوان سے رمضان مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد دنیا بھر میں 50 لاکھ بچوں کو بھوک سے بچانا ہے۔ مہم خاص طور پر ان خطوں پر مرکوز ہے جہاں آفات، تنازعات اور شدید غذائی بحران کے باعث کم عمر بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق شدید غذائی قلت کے باعث پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔

ہلال احمر امارات نے اعلان کیا کہ اس کے رمضان پروگراموں سے متحدہ عرب امارات سمیت 44 ممالک میں 15 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے، جبکہ ان اقدامات پر 60 ملین درہم سے زائد لاگت آئے گی۔ تنظیم کے مطابق یہ پروگرام خوراک کی فراہمی، طبی امداد اور بنیادی ضروریات کی تکمیل پر مرکوز ہیں۔

غزہ پٹی رمضان اقدامات کا مرکزی محور ہے۔ امدادی جہاز "ام الامارات" 12 فروری کو 7,300 ٹن سے زائد غذائی اشیاء، طبی سامان اور پناہ گاہ کے مواد کے ساتھ غزہ روانہ کیا گیا، جس کا مقصد متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

اسی تناظر میں، حکمران عجمان عزت مآب شیخ حمید بن راشد النعیمی کی ہدایت پر آپریشن 'الفارس الشهم 3' کے تحت غزہ کے لیے انسانی فضائی پل قائم کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے غذائی پیکجز، طبی سامان اور خواتین و بچوں کے لیے ضروری اشیاء مسلسل فراہم کی جا رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات انسانی امدادی قافلوں کی ترسیل بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بحران زدہ آبادی کی فوری ضروریات پوری کی جا سکیں۔

بگ ہارٹ فاؤنڈیشن نے ’فور غزہ‘ مہم کا دوسرا مرحلہ شروع کیا ہے، جس کا محور غزہ میں یتیم بچوں کی جامع نگہداشت ہے۔ اس میں مصنوعی اعضا کی فراہمی، جسمانی بحالی اور نفسیاتی و سماجی معاونت شامل ہے تاکہ متاثرہ بچوں کی طویل مدتی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

موریتانیہ میں انٹرنیشنل چیریٹی آرگنائزیشن کے وفد نے 90 فلاحی منصوبوں کی نگرانی کی، جو دیہی اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے جاری ہیں۔ ان منصوبوں میں بنیادی سہولیات، خوراک اور صحت کی خدمات شامل ہیں۔

دبئی کیئرز نے ’فیڈ اے چائلڈ، بلڈ اے کچن‘ کے عنوان سے رمضان مہم کا آغآز کیا ہے، جس کا مقصد اسکول میل پروگرام کے ذریعے اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بچہ بھوکا رہ کر تعلیم حاصل نہ کرے۔ یہ منصوبہ ابتدا میں کینیا میں نافذ کیا جائے گا اور بعد ازاں سب صحارا افریقہ تک توسیع دی جائے گی، جہاں غذائی قلت ایک بڑا چیلنج ہے۔

ادارے کے مطابق افریقہ میں 90 فیصد سے زائد بچوں کو متوازن غذا میسر نہیں، جبکہ کینیا میں 60 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جس کے اثرات ان کی تعلیمی کارکردگی اور صحت پر براہ راست مرتب ہوتے ہیں۔