متحدہ عرب امارات نے انسانی حقوق کونسل میں 'جواب دینے کا حق' استعمال کرتے ہوئے سوڈانی الزامات مسترد کر دیے

جنیوا، 27 فروری، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات نے سوڈان میں جاری تنازع کے فریقین کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس میں اپنا سرکاری 'جواب دینے کا حق' استعمال کرنے کی تصدیق کی ہے۔ یہ بیان 26 فروری کو جنیوا میں منعقدہ اجلاس کے دوران پیش کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات کے مستقل مشن جنیوا کے مشیر خلیفہ المزروعی نے اپنے بیان میں کہا کہ امارات سوڈان کے ایک متحارب فریق کی جانب سے لگائے گئے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اسی تناظر میں 'جواب دینے کا حق' استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوڈانی عوام کے حقوق کے تحفظ اور خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ بین الاقوامی کوششوں میں شریک ہونے کے بجائے سوڈانی مسلح افواج اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

المزروعی نے کہا کہ حالیہ بیانات دراصل جنگی جرائم سے متعلق متعدد دستاویزی الزامات سے توجہ ہٹانے کی ایک منظم حکمت عملی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی بریفنگ اور مختلف مندوبین کی تقاریر میں واضح طور پر تمام متحارب فریقین، بشمول سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز، پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سوڈانی مسلح افواج نے ڈرون حملوں کے ذریعے ہسپتالوں، بازاروں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا، جبکہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق معتبر شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کے بقول ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں اور خواتین و لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد جیسے سنگین جرائم بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

المزروعی نے سوڈانی مسلح افواج کے زیر کنٹرول علاقوں میں طبی عملے اور انسانی ہمدردی کے رضاکاروں کے خلاف جنسی تشدد کی اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی کو ترجیح دینے کے بجائے متحارب فریق سیاسی بیانیے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے تنازع کے دوران ہونے والی تمام خلاف ورزیوں کی واضح مذمت کی ہے، تاہم امارات پر الزامات عائد کرنے والے نمائندے نے مبینہ مظالم پر خاموشی اختیار کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف رپورٹس میں سوڈانی مسلح افواج سے متعلق خلاف ورزیوں کے حوالے سے قائم قومی کمیٹی کی آزادی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جو استثنیٰ کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیقاتی میکانزم کے ساتھ تعاون سے انکار کو بھی جوابدہی سے گریز کی علامت قرار دیا گیا۔

خلیفہ المزروعی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ جو فریق ریپڈ سپورٹ فورسز کے ساتھ مل کر طاقت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوا، سنگین جنگی جرائم کا مرتکب رہا، انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹ ڈالتا رہا اور امن کوششوں کو سبوتاژ کرتا رہا، وہ اس کونسل سے خطاب کرنے یا سوڈان کے مستقبل میں مثبت کردار کا دعویٰ کرنے کی اخلاقی ساکھ کھو چکا ہے۔