شیخ عبداللہ بن زاید کے متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطے، ایرانی میزائل حملوں کے بعد علاقائی صورتحال پر مشاورت

ابوظہبی، 1 مارچ، 2026 (وام) --نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنانے والے کھلے میزائل حملوں کے بعد پیدا ہونے والی تازہ علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے برادر اور دوست ممالک کے متعدد وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔

ان رابطوں کے دوران انہوں نے حسین الشیخ نائب صدر ریاست فلسطین؛ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی وزیر اعظم و وزیر خارجہ ریاست قطر؛ ایمن الصفدی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ و امور تارکین وطن ہاشمی سلطنت اردن؛ انتونیو تاجانی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ جمہوریہ اٹلی؛ سرگئی لاوروف وزیر خارجہ روسی فیڈریشن؛ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح وزیر خارجہ ریاست کویت؛ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی وزیر خارجہ مملکت بحرین؛ ڈاکٹر سبرامنیم جے شنکر وزیر خارجہ جمہوریہ بھارت؛ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی وزیر خارجہ و امور ہجرت عرب جمہوریہ مصر؛ اسعد الشیبانی وزیر خارجہ و امور تارکین وطن شامی عرب جمہوریہ؛ یوویٹ کوپر سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ، دولت مشترکہ و ترقیاتی امور برطانیہ؛ خوسے مانوئل الباریس وزیر خارجہ، یورپی یونین و تعاون مملکت اسپین؛ حکان فیدان وزیر خارجہ جمہوریہ ترکیہ؛ خاویئر مارٹینیز-آچا وزیر خارجہ جمہوریہ پاناما؛ اور ڈاکٹر گنٹر زاؤٹر مشیر خارجہ و سلامتی پالیسی وفاقی چانسلر وفاقی جمہوریہ جرمنی سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

گفتگو میں جاری علاقائی کشیدگی کے ممکنہ سنگین نتائج، تنازع کے پھیلتے دائرہ کار اور ایران کی مسلسل خلاف ورزیوں پر غور کیا گیا، جو علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی استحکام اور توانائی کی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہیں۔

عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان اور متعلقہ وزرائے خارجہ نے متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر ممالک پر ایران کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات کی توثیق کی کہ متاثرہ ریاستوں کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں و رہائشیوں کے تحفظ کے لیے جواب دینے کا مکمل اور جائز حق حاصل ہے۔

وزرائے خارجہ نے تحمل اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے موجودہ بحران کے حل کے لیے سنجیدہ اور بامقصد مکالمے کو ترجیح دینے کی اہمیت اجاگر کی، تاکہ خطے کی عوام کے لیے سلامتی، استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔