ابوظہبی، 2 مارچ 2026 (وام)--نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے متحدہ عرب امارات اور خطے کے کئی برادر ممالک کو نشانہ بنانے والے ایران کے کھلے میزائل حملوں کے بعد پیدا ہونے والی سنگین علاقائی صورتحال اور اس کے سلامتی پر مضمرات پر تبادلہ خیال کے لیے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔
شیخ عبداللہ بن زاید نے لبنان کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر نواف سلام، جمہوریہ البانیا کے وزیرِ اعظم ایڈی راما، لکسمبرگ کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ ژاویر بیٹل، مونٹی نیگرو کے نائب وزیرِ اعظم برائے بین الاقوامی تعلقات اور وزیرِ خارجہ ایروِن ابراہیمووچ، مالٹا کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ و سیاحت ڈاکٹر ایان بورگ، پیراگوئے کے وزیرِ خارجہ روبین رامیریز لیسکانو، مراکش کے وزیرِ خارجہ ناصر بوریطہ، اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈون سعار، نیدرلینڈز کے وزیرِ خارجہ ٹام بیرینڈسن، ازبکستان کے وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف، لتھوانیا کے وزیرِ خارجہ کیسٹوٹس بدریس، بوسنیا و ہرزیگووینا کے وزیرِ خارجہ المیڈین کوناکووچ، رومانیہ کی وزیرِ خارجہ اوانا توئیو، ارجنٹینا کے وزیرِ خارجہ، بین الاقوامی تجارت و مذہبی امور کے وزیر پابلو کوئرنو، آئرلینڈ کی وزیرِ خارجہ و تجارت و وزیرِ دفاع ہیلن مک اینٹی، آسٹریا کی وفاقی وزیر برائے یورپی و بین الاقوامی امور بیاتے مائنل رائزنگر، ہنگری کے وزیرِ خارجہ و تجارت پیٹر سیارتو، کروشیا کے وزیرِ خارجہ و یورپی امور گورڈن گرلچ راڈمان اور شمالی مقدونیہ کے وزیرِ خارجہ و خارجہ تجارت تیمچو موچنسکی سے گفتگو کی۔
ان رابطوں میں علاقائی کشیدگی کے اثرات، تنازع کے دائرہ کار میں اضافے سے پیدا ہونے والے سنگین خطرات اور ایران کی جانب سے جاری کھلی جارحیت اور خلاف ورزیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی اور عالمی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
شیخ عبداللہ بن زاید نے گفتگو کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم تمام شہری، رہائشی اور مہمان محفوظ ہیں۔
ٹیلیفونک رابطوں کے دوران شیخ عبداللہ بن زاید اور متعلقہ وزراء نے متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر ممالک پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات کی توثیق کی کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے انہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں و مقیم افراد کے تحفظ کے لیے مناسب اور جائز ردعمل دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔
وزراء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ مرحلہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط اور مؤثر کوششوں کا متقاضی ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور سفارتی حل کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ مکالمے کے ذریعے موجودہ بحران پر قابو پانے اور خطے کے عوام کی سلامتی، پائیدار استحکام اور طویل المدتی جامع ترقی کی خواہشات کی حمایت کی ضرورت پر اتفاق کیا۔