ابوظہبی، 2 مارچ، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر رضا عامری کو طلب کر کے انہیں سخت احتجاجی مراسلہ تھما دیا، جس میں اماراتی سرزمین کو نشانہ بنانے والے مبینہ دہشت گردانہ حملوں اور جارحانہ اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔ حکام نے واضح کیا کہ امارات کی خودمختاری پر کسی بھی قسم کا حملہ نہ صرف قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔
اس موقع پر وزیر مملکت خلیفہ شاہین المرار نے ایرانی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے کسی بھی جواز کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا کھلی جارحیت کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور بنیادی خدمات کی سہولیات پر حملے معصوم شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ سنگین اور غیر ذمہ دارانہ کشیدگی متحدہ عرب امارات کے اس واضح اور دوٹوک مؤقف کو نظر انداز کرتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ اقدامات حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہیں اور وہ سفارتی و پرامن راستے متاثر کر رہے ہیں جنہیں امارات ایران کے ساتھ تعلقات میں مستقل طور پر فروغ دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کے دو طرفہ تعلقات پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے، جو سیاسی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں کو براہِ راست متاثر کر سکتے ہیں۔
وزیر مملکت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی خودمختاری کے مکمل احترام کا مطالبہ کرتا ہے اور حملوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر روکنے کا تقاضا کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ امارات اپنے قانونی اور بین الاقوامی حقوق کے مطابق مناسب ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔