ابوظہبی، 4 مارچ، 2026 (وام) --اے ڈی پورٹس گروپ نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی حالات کے باوجود اس کے تمام کلسٹرز میں آپریشن معمول کے مطابق جاری ہیں اور خدمات بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہیں۔
گروپ کے مطابق احتیاطی تدابیر کے طور پر بحران انتظام اور کاروباری تسلسل کے پروٹوکولز فعال کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ورک فورس، شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ صارفین کو مسلسل خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
اے ڈی پورٹس گروپ کے پورٹس کلسٹر کے تحت چلنے والی متحدہ عرب امارات کی تمام بندرگاہیں اور ٹرمینلز مکمل طور پر فعال ہیں اور متعلقہ خدمات بھی جاری ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں کمی کے باعث خلیفہ پورٹ پر جہازوں کی آمد میں کمی متوقع ہے، تاہم بندرگاہ پر تمام خدمات معمول کے مطابق فراہم کی جاتی رہیں گی۔
گروپ کے مطابق علاقائی حالات کے باعث تجارتی راستوں میں ممکنہ تبدیلی سے اس کے عالمی بحری نیٹ ورک میں سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔ میری ٹائم اینڈ شپنگ کلسٹر کے تحت گروپ کے 122 میں سے بیشتر جہاز، جن میں کنٹینر، بلک، رو-رو اور ملٹی پرپز جہاز شامل ہیں، آبنائے ہرمز سے باہر خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود جہاز خلیجی ممالک کے درمیان خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر اس کلسٹر پر اثرات محدود رہنے کی توقع ہے، جبکہ اکنامک سٹیز اینڈ فری زونز اور لاجسٹکس کلسٹرز پر بھی محدود اثرات متوقع ہیں۔
اس موقع پر اے ڈی پورٹس گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر کپتان محمد جمعہ الشامسی نے کہا کہ عالمی تجارت نے ماضی میں جیوپولیٹیکل کشیدگی کے ادوار میں بھی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منظم عمل درآمد، مؤثر آپریشنل کارکردگی اور فعال رسک مینجمنٹ کے ذریعے اے ڈی پورٹس گروپ سپلائی چین کے استحکام کو برقرار رکھنے اور اپنے عالمی نیٹ ورک میں صارفین سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جو ملک کی دانا قیادت کے وژن کے مطابق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک متنوع عالمی تجارتی سہولت کار کے طور پر اے ڈی پورٹس گروپ جیوپولیٹیکل پیش رفتوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور بحری راستوں، سپلائی چینز اور عالمی تجارتی بہاؤ پر کسی بھی ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔