شیخ عبداللہ بن زاید کی متعدد وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو، خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

ابوظہبی، 6 مارچ، 2026 (وام) -- نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور خطے کے کئی ممالک کو نشانہ بنانے والے میزائل حملوں کے بعد پیدا ہونے والی تازہ علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شیخ عبداللہ بن زاید نے جمہوریہ کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون، آرمینیا کے وزیر خارجہ آرارات میرزوئان، یونان کے وزیر خارجہ جیورگوس جیرابیٹریٹس، ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن، ایکواڈور کی وزیر خارجہ و ہیومن موبلٹی گیبریلا سومرفیلڈ اور برونائی دارالسلام کے دوسرے وزیر خارجہ داتو ایریوان یوسف سے گفتگو کی۔

گفتگو کے دوران خطے میں حالیہ پیش رفت اور اس کے علاقائی استحکام، عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تقویت دینے کے مقصد سے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شیخ عبداللہ بن زاید اور متعلقہ وزراء نے متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر ممالک پر ایران کے میزائل حملوں کی شدید مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی اور ممالک کی سلامتی و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

انہوں نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ نشانہ بننے والے ممالک کو اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے ساتھ اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اس مرحلے پر بین الاقوامی برادری کو متحد ہو کر سفارتی اور سیاسی کوششوں کو تیز کرنا چاہیے اور علاقائی سلامتی و استحکام کے فروغ کے لیے پرامن ذرائع اور ذمہ دارانہ مکالمے کو ترجیح دینی چاہیے۔

شیخ عبداللہ بن زاید نے وزراء کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ ملک میں مقیم تمام رہائشی اور زائرین محفوظ ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر خطے میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا۔