متعدد اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کرنے کے اسرائیلی اقدام کی مذمت

ابوظہبی، 11 مارچ، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات، جمہوریہ ترکیہ، عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی سلطنت اردن، جمہوریہ انڈونیشیا، اسلامی جمہوریہ پاکستان، مملکت سعودی عرب اور ریاست قطر کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کے دروازے مسلمانوں کے لیے، بالخصوص ماہِ رمضان کے دوران، بند رکھنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کی عبادت گاہوں تک رسائی پر سکیورٹی پابندیاں اور دیگر عبادت گاہوں تک امتیازی اور من مانے رسائی کی پابندیاں بین الاقوامی قانون، خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون، تاریخی و قانونی حیثیت اور عبادت گاہوں تک بلا روک ٹوک رسائی کے اصول کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اس غیر قانونی اور بلا جواز اقدام کی مکمل مخالفت کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف اور عبادت گزاروں کے خلاف اسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیز کارروائیوں کی بھی مذمت کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا اس کے اسلامی و عیسائی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا احاطہ، جو 144 دونم پر مشتمل ہے، صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے، اور یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ، جو اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ ہے، مسجد اقصیٰ/حرم الشریف کے امور کی نگرانی اور اس میں داخلے کے ضوابط کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے بطور قابض طاقت مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کرنے کا سلسلہ روکے، یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کی مسجد تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے سے باز رہے۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ مضبوط اور واضح موقف اختیار کرے تاکہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں اور غیر قانونی اقدامات کو روکنے پر مجبور کیا جا سکے اور ان مقدس مقامات کی حرمت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔