نیویارک، 12 مارچ، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات، خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک اور اردن پر کیے گئے بلا اشتعال میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر یہ حملے بند کرے۔
یہ قرارداد بحرین کی قیادت میں خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور اردن کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ متحدہ عرب امارات نے اس قرارداد کو آگے بڑھانے میں بحرین کی مؤثر قیادت پر گہرے تشکر کا اظہار کیا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ اس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری اور غیر مشروط طور پر اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا دھمکیوں، بشمول پراکسی گروہوں کے ذریعے کارروائیوں، کو بند کرے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت متاثرہ ممالک کے حقِ دفاع کی بھی توثیق کی گئی ہے۔
قرارداد میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً مسلح تنازعات کے دوران شہریوں اور شہری املاک کے تحفظ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے اور ایسے کسی اقدام یا دھمکی سے گریز کرے جو علاقائی استحکام، بحری نقل و حمل کی آزادی اور عالمی معاشی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہو۔
یہ قرارداد جی سی سی ممالک اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھیجے گئے متعدد خطوط کے بعد منظور کی گئی، جن میں ایران کے حملوں کے حجم اور اثرات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کے مستقل نمائندے سفیر محمد ابو شہاب نے سلامتی کونسل کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری، جس کی 135 ممالک نے مشترکہ سرپرستی کی، عالمی برادری کی جانب سے واضح اور متحد پیغام ہے کہ خودمختاری پر حملوں یا شہریوں اور اہم انفراسٹرکچر کو دانستہ نشانہ بنانے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سلامتی کونسل کا شکر گزار ہے کہ اس نے اس نازک مرحلے پر امارات اور خطے کی قیادت و عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی قانون کی پاسداری، استحکام کے تحفظ اور خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔
متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے فطری حقِ دفاع کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ وہ اپنی سرزمین، عوام اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ان خلاف ورزیوں کا ازالہ کیا جا سکے، ان کے اعادے کو روکا جائے اور عالمی امن و سلامتی کو برقرار رکھا جا سکے۔