ابوظہبی، 13 مارچ، 2026 (وام) --نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے متعدد عالمی رہنماؤں اور وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں متحدہ عرب امارات اور خطے کے کئی ممالک کو نشانہ بنانے والے بلا اشتعال اور دہشت گرد ایرانی میزائل حملوں کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے تنزانیہ کی صدر سامیا سولوحو حسن، ٹونگا کے ولی عہد توپوؤتوآ اُلوکلالا، کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند، جارجیا کی وزیر خارجہ ماکا بوچوریشویلی، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کے وزیر خارجہ و کیریکم امور شان سوبیرز، اور گوئٹے مالا کے وزیر خارجہ کارلوس رامیرو مارٹینیز سے گفتگو کی۔
ان رابطوں کے دوران ایرانی میزائل حملوں کے علاقائی سلامتی و استحکام پر سنگین اثرات اور عالمی معیشت و توانائی کی سلامتی پر ان کے منفی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شیخ عبداللہ بن زاید النہیان اور مذکورہ رہنماؤں نے بلا اشتعال اور دہشت گرد میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ریاستوں کی سلامتی و خودمختاری کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
انہوں نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ نشانہ بننے والے ممالک کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور اپنے شہریوں، رہائشیوں اور زائرین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
گفتگو کے دوران شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ برادر اور دوست ممالک کی جانب سے اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ ملک میں تمام رہائشی اور زائرین محفوظ ہیں۔
فریقین نے علاقائی سلامتی و استحکام کے تحفظ اور خطے کے عوام کی جامع ترقی اور پائیدار معاشی خوشحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔