ابوظہبی، 14 مارچ، 2026 (وام)--متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 10 ملزمان کی گرفتاری اور انہیں فوری عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ان ملزمان پر سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گمراہ کن اور من گھڑت مواد پر مشتمل ویڈیوز شائع کرنے کا الزام ہے۔
یہ اقدام سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے مواد کی مسلسل نگرانی کے سلسلے میں کیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں جاری پیش رفت کو استعمال کرتے ہوئے گمراہ کن معلومات اور من گھڑت مواد پھیلایا جا رہا تھا، جس کا مقصد عوام کوجان بوجھ کر گمراہ کرنا اور سلامتی، نظم و ضبط اور استحکام کو نقصان پہنچانا تھا۔
تحقیقات کے دوران ظاہر ہوا کہ ملزمان نے ایسی ویڈیو کلپس نشر کیں جن میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو روکنے کے حقیقی مناظر اور ان کے بعد کی صورتحال دکھائی گئی، جبکہ بعض ویڈیوز میں زمین پر گرے ہوئے میزائلوں کے مناظر یا واقعات کا مشاہدہ کرنے کے لیے جمع افراد کے اجتماعات بھی دکھائے گئے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز بھی پھیلائی گئیں جن میں ملک کے اندر دھماکوں، حملوں، نمایاں عمارتوں کو نشانہ بنانے، یا مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر آگ اور دھوئیں کے بادل دکھائے گئے، جبکہ درحقیقت ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔
ان واقعات میں بچوں کے جذبات کو استعمال کرتے ہوئے ایسی ویڈیوز بھی شائع کی گئیں جن سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ملک کے اندر سیکیورٹی سے متعلہ واقعات پیش آئے ہیں۔ اسی طرح ایسی ویڈیوز بھی نشر کی گئیں جن میں متحدہ عرب امارات کے اندر تنصیبات یا فوجی اڈوں کی تباہی کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ بعض ویڈیوز دراصل بیرونِ ملک پیش آنے والے واقعات کی تھیں جنہیں غلط طور پر امارات کے مقامات سے منسوب کیا گیا۔ اس طرح کے اقدامات عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایسی ویڈیوز کی اشاعت، خواہ وہ حقیقی ہوں یا من گھڑت، عوامی سلامتی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اور معاشرے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ معاندانہ میڈیا کو ایسا مواد فراہم کر سکتی ہے جسے حقائق مسخ کرنے، متعلقہ حکام پر اعتماد کو کمزور کرنے اور ملک کی دفاعی صلاحیتوں کے بعض پہلوؤں کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پبلک پراسیکیوشن نے ملزمان کے خلاف الزامات کے سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور انہیں تفتیش مکمل ہونے تک حراست میں رکھنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے اقدامات قانون کے تحت قابلِ سزا جرائم ہیں، جن پر کم از کم ایک سال قید اور کم از کم ایک لاکھ درہم جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ دانستہ طور پر غلط معلومات پھیلانے، عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے، افراد میں خوف پیدا کرنے اور معاشرتی استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پبلک پراسیکیوشن سائبر اسپیس یا جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے گمراہ کن معلومات یا من گھڑت مواد پھیلانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی، خاص طور پر وہ مواد جو ریاست کی سلامتی کو متاثر کرے یا عوامی نظم میں خلل ڈالے، جس میں دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو روکنے سے متعلق ویڈیوز کی گردش بھی شامل ہے۔
اٹارنی جنرل نے خبردار کیا کہ ایسے کسی بھی عمل میں ملوث افراد کو فوری طور پر فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، اور متعلقہ حکام اس طرح کی سرگرمیوں کی نگرانی جاری رکھتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رکھیں گے۔