ابوظہبی، 15 مارچ، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشمسی نے قومی دفاع اور سلامتی کو نقصان پہنچانے والا گمراہ کن ڈیجیٹل مواد شائع کرنے کے الزام میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 25 افراد کی گرفتاری اور ان کے خلاف فوری عدالتی کارروائی کا حکم جاری کیا ہے۔
یہ کارروائی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کے بعد عمل میں لائی گئی، جس کا مقصد من گھڑت معلومات اور مصنوعی مواد کے پھیلاؤ کو روکنا ہے جو عوام میں اضطراب پیدا کرنے اور معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
تحقیقات اور الیکٹرانک نگرانی کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان تین مختلف گروہوں میں منقسم تھے اور ہر گروہ نے مختلف نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر مواد نشر کیا۔ ان سرگرمیوں میں حالیہ واقعات سے متعلق حقیقی ویڈیوز کی اشاعت، مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی ویڈیوز کی تیاری اور ایک ایسے ملک کی تشہیر شامل ہے جو فوجی جارحیت کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور جس کی قیادت اور عسکری اقدامات کو سراہا جا رہا تھا۔
پہلا گروہ ایسے مستند ویڈیو کلپس نشر اور گردش میں لانے میں ملوث تھا جن میں ریاست کی فضائی حدود سے گزرنے والے یا دفاعی نظام کی جانب سے روکے جانے والے میزائلوں کے مناظر یا ان کے اثرات دکھائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ بعض افراد نے ان واقعات کو دیکھنے کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کی ویڈیوز بھی بنائیں اور ان کے ساتھ ایسے تبصرے اور آواز کے اثرات شامل کیے جن سے یہ تاثر ملا کہ ریاست پر حملے جاری ہیں۔ حکام کے مطابق اس نوعیت کا مواد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی صلاحیتوں سے متعلق حساس معلومات بھی ظاہر کر سکتا ہے۔
دوسرا گروہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی بصری مواد شائع کرنے یا بیرونِ ملک پیش آنے والے واقعات کی ویڈیوز کو دوبارہ گردش میں لا کر یہ دعویٰ کرنے میں ملوث تھا کہ یہ واقعات ریاست کے اندر پیش آئے ہیں۔ ان ویڈیوز میں دھماکوں اور میزائل حملوں کے مصنوعی مناظر دکھائے گئے اور ان میں قومی پرچم یا مخصوص تاریخیں شامل کر کے جھوٹے دعوؤں کو قابلِ اعتبار بنانے کی کوشش کی گئی۔
تیسرا گروہ ایک مخالف ریاست اور اس کی سیاسی و عسکری قیادت کی تشہیر کرنے اور اس کی علاقائی عسکری سرگرمیوں کو کامیابیوں کے طور پر پیش کرنے میں ملوث تھا۔ اس ضمن میں اس ریاست کے رہنماؤں کی تعریف اور اس کے پروپیگنڈا مواد کو دوبارہ نشر کیا گیا، جو دشمن میڈیا بیانیے کو تقویت دینے اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
پبلک پراسیکیوشن نے ملزمان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور مزید تفتیش مکمل ہونے تک انہیں احتیاطی حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشمسی نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف مقررہ تعزیری اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کا مواد عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور معاشرتی بے چینی کو ہوا دینے کا سبب بنتا ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ سائبر اسپیس کو گمراہ کن مواد یا ایسی ویڈیوز پھیلانے کے لیے استعمال کرنا جو عوامی سلامتی کو متاثر کریں یا ریاست کی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان پہنچائیں، ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر موجودہ حالات میں جب ریاست کو فوجی جارحیت کا سامنا ہے، اس قسم کے اقدامات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ جو بھی فرد ان سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا اسے عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ اسے قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔ ان کے بقول ملک کی سلامتی اور حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے حقائق کو مسخ کرنا یا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا سنگین نتائج کا باعث بنے گا۔