دبئی، 17 مارچ، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کی لیبر مارکیٹ نے 2025 کے دوران مسلسل مثبت رجحان برقرار رکھا، جو مؤثر گورننس اور جدید ضابطہ جاتی نظام کی بدولت ممکن ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نجی شعبے میں افرادی قوت میں 12.4 فیصد جبکہ اداروں کی تعداد میں 7.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مجموعی تعمیل کی سطح میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 34 فیصد نمایاں بہتری آئی۔
وزارت انسانی وسائل و ایمریٹائزیشن کے مطابق یہ پیش رفت ایک جامع فریم ورک کے تحت حاصل ہوئی، جو معاشی ترقی اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرتا ہے، اور ملک کو سرمایہ کاری و کاروبار کے لیے مزید پرکشش بناتا ہے۔
وزارت نے بتایا کہ 2025 میں انسپکشن اور گورننس کے نظام کی کارکردگی کے نتیجے میں خلاف ورزیوں میں 13 فیصد کمی آئی، حالانکہ انسپکشن دوروں کی تعداد 6 لاکھ 95 ہزار سے تجاوز کر گئی، جو 2024 کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے۔ اسی عرصے کے دوران وفاقی و مقامی اداروں کے اشتراک سے 3,000 سے زائد مشترکہ انسپکشن مہمات بھی چلائی گئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیاتی نظام کے استعمال سے نگرانی کے عمل میں شفافیت، درستگی اور مؤثریت میں اضافہ ہوا، جبکہ نجی شعبے میں رضاکارانہ تعمیل کے رجحان کو بھی فروغ ملا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بعض اہم خلاف ورزیوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جن میں جعلی امارات کاری کے کیسز میں 62 فیصد کمی شامل ہے، جبکہ لیبر رہائش اور پیشہ ورانہ صحت و حفاظت کے معیارات سے متعلق خلاف ورزیوں میں بھی واضح کمی ریکارڈ کی گئی، جن میں غیر معیاری لیبر رہائش کے کیسز میں 30 فیصد کمی شامل ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ وہ لیبر مارکیٹ کی سالمیت اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ 2025 کے دوران تقریباً 2,600 سنگین خلاف ورزیوں کے مقدمات پبلک پراسیکیوشن کو بھجوائے گئے، جن میں اجرتوں کی ادائیگی میں تاخیر، جعلی امارات کاری، غیر قانونی ملازمت اور رہائشی معیارات کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مؤثر مواصلاتی نظام اور تربیت یافتہ انسانی وسائل پر مشتمل انسپکشن سسٹم لیبر مارکیٹ میں شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔