عالمی مالیاتی فراڈ کا خطرہ سنگین، نقصانات 442 ارب ڈالر تک پہنچ گئے: انٹرپول

لیون، 17 مارچ، 2026 (وام) --انٹرپول کی جانب سے جاری کردہ 2026 گلوبل فنانشل فراڈ تھریٹ اسیسمنٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف 2025 کے دوران مالیاتی فراڈ سے عالمی سطح پر نقصانات کا حجم 442 ارب امریکی ڈالر تک جا پہنچا، جبکہ اس خطرے کو "انتہائی سنگین" قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ تین سے پانچ برسوں میں مالیاتی فراڈ کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کا تیزی سے پھیلاؤ اور اس تک رسائی میں آسانی ہے۔ جدید اے آئی ٹولز نے فراڈ کے طریقہ کار کو نہ صرف پیچیدہ بلکہ زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔

انٹرپول کے مطابق اے آئی سے تقویت یافتہ فراڈ روایتی طریقوں کے مقابلے میں 4.5 گنا زیادہ منافع بخش ثابت ہو رہا ہے۔ خاص طور پر "ایجنٹک اے آئی" سسٹمز خودکار انداز میں مکمل فراڈ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور نفاذ کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس میں ابتدائی معلومات کے حصول سے لے کر تاوان کے مطالبات تک کے مراحل شامل ہیں۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان عالمی سطح پر تعاون میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ 2024 کے بعد سے فراڈ سے متعلق نوٹسز اور ڈیفیوژنز میں 54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ انٹرپول نے رکن ممالک کو 1,500 سے زائد سرحد پار مقدمات میں معاونت فراہم کی، جن میں مجموعی طور پر 1.1 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے بازیاب کرائے گئے۔

انٹرپول کے سیکرٹری جنرل والڈسی یورکیزا نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت، کم لاگت ڈیجیٹل آلات اور عالمی مجرمانہ نیٹ ورکس کے اشتراک سے فراڈ ایک منظم صنعت کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی جرائم کا نقصان محض مالی نہیں بلکہ اس سے افراد کی زندگی بھر کی جمع پونجی، سماجی ساکھ اور بعض صورتوں میں جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بڑھتے ہوئے عالمی خطرے سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، نجی شعبے اور عوامی سطح پر آگاہی کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔