ابوظہبی، 21 مارچ، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، جاپان، کینیڈا، جمہوریہ کوریا، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، لٹویا، سلووینیا، ایسٹونیا، ناروے، سویڈن، فن لینڈ، چیک جمہوریہ، رومانیہ، بحرین، لیتھوانیا اور آسٹریلیا کے رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال پر مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے خلیج میں ایران کی جانب سے غیر مسلح تجارتی جہازوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے تیل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنانا اور آبنائے ہرمز کی عملی بندش جیسے اقدامات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ رہنماؤں نے اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے فوری طور پر دھمکی آمیز اقدامات، بارودی سرنگوں کی تنصیب، ڈرون اور میزائل حملوں اور عالمی تجارتی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام سرگرمیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
مشترکہ بیان میں ایران پر زور دیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے، کیونکہ بین الاقوامی پانیوں میں جہاز رانی کی آزادی عالمی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس کی ضمانت اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر بھی دیتا ہے۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ ایران کے اقدامات کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے، خصوصاً ان ممالک اور طبقات پر جو توانائی کی فراہمی میں خلل سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی جہاز رانی میں مداخلت اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ عالمی امن و سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
بیان میں شہری انفراسٹرکچر، بالخصوص تیل و گیس کی تنصیبات پر حملوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا اور آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
رہنماؤں نے ان ممالک کے عزم کو سراہا جو ہنگامی تیاریوں کے منصوبوں میں شریک ہیں، جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا گیا جس کے تحت اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو مربوط انداز میں جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
مزید برآں، توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام کے لیے اضافی اقدامات، بشمول بعض پیداواری ممالک کے تعاون سے پیداوار میں اضافہ، کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعے تعاون فراہم کیا جائے گا۔
آخر میں، رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بحری سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی عالمی مفاد میں ہے، اور تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے عالمی استحکام اور خوشحالی کے بنیادی اصولوں کا احترام کریں۔