ڈاکٹر سلطان الجابر کا سیرا ویک میں خطاب، آبنائے ہرمز کو ہتھیار بنانا "معاشی دہشت گردی" قرار

ہیوسٹن، 23 مارچ، 2026 (وام) --وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی، منیجنگ ڈائریکٹر و گروپ سی ای او ادنوک اور چیئرمین مصدر ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا "معاشی دہشت گردی" ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں سے کہیں بڑھ کر پوری دنیا کی معیشت اور انسانی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں جاری سیرا ویک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو لاحق خطرات نہ صرف توانائی کی ترسیل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اس کے اثرات دنیا بھر کی صنعتوں، زراعت اور عام شہریوں تک پہنچتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی سلامتی محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ یہ روزمرہ زندگی کے تسلسل کی ضمانت ہے۔

ڈاکٹر الجابر نے آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی توانائی سپلائی کی اہم ترین گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے، جو دنیا کی تیل و گیس کی ضروریات کا بڑا حصہ ہے۔ ان کے مطابق عالمی کھاد، پیٹروکیمیکلز اور صنعتی دھاتوں کی نمایاں مقدار بھی اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے، جس سے یہ عالمی معیشت کی "آکسیجن" کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس گزرگاہ پر دباؤ ڈالنے کے فوری عالمی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ محض تین ہفتوں میں تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے زندگی کی لاگت میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی۔

ڈاکٹر الجابر نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا اسے دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا کسی ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ پوری دنیا کے خلاف اقدام ہے، اور عالمی برادری کو اس کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال بنیادی طور پر فراہمی کا نہیں بلکہ سلامتی کا مسئلہ ہے، جس کا واحد پائیدار حل اس اہم گزرگاہ کو ہر صورت کھلا رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ کشیدگی سے گریز کی پالیسی اپنائی، تاہم چیلنجز کے باوجود ملک نے اپنی دفاعی صلاحیت، لچک اور استحکام کا مظاہرہ کیا۔ ادنوک کو پیش آنے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کمپنی اپنے صارفین اور شراکت داروں کو توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہی ہے۔

ڈاکٹر الجابر نے اس بات پر زور دیا کہ امارات کی لچک برسوں کی منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور مضبوط عالمی شراکت داریوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادنوک، مصدر اور ایکس آر جی کے ذریعے امریکا میں 85 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جو توانائی، جدید کیمیکلز اور روزگار کے شعبوں کو تقویت دے رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ بحران نے دنیا کے سامنے دو راستے واضح کر دیے ہیں: ایک عدم استحکام کی طرف لے جاتا ہے جبکہ دوسرا خوشحالی اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ استحکام، عملی حکمت عملی اور نتیجہ خیز پالیسیوں کو ترجیح دی ہے۔

ڈاکٹر الجابر نے عالمی توانائی رہنماؤں کو نومبر میں ابوظہبی میں منعقد ہونے والی اے ڈی آئی پی ای سی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ استحکام خود بخود حاصل نہیں ہوتا بلکہ اسے مشترکہ کاوشوں سے تشکیل دینا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ سیرا ویک کانفرنس 23 سے 27 مارچ تک جاری رہے گی، جبکہ اے ڈی آئی پی ای سی 2 سے 5 نومبر 2026 کو ابوظہبی کے ایڈنیک سینٹر میں منعقد ہوگی۔