ایرانی حملوں کے خلاف عالمی مؤقف، اقوام متحدہ کی تاریخی قرارداد منظور

جنیوا، 25 مارچ، 2026 (وام) --اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور اردن کو نشانہ بنانے والے حملوں کے خلاف ایک اہم اور متفقہ قرارداد منظور کر لی، جسے عالمی سطح پر واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ قرارداد متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر، کویت، سعودی عرب اور اردن پر ہونے والے حملوں کے انسانی حقوق پر اثرات سے متعلق ہے، جس کی مشترکہ سرپرستی 100 سے زائد ممالک نے کی، جو ان حملوں کے خلاف عالمی اتفاق رائے کی عکاسی کرتی ہے۔

قرارداد میں میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی شہری آبادی اور اہم تنصیبات جیسے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، توانائی مراکز، پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

دستاویز میں واضح کیا گیا کہ یہ حملے ان ممالک پر کیے گئے جو اس تنازعے کا حصہ نہیں تھے، جس سے خطے میں عدم استحکام کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

قرارداد میں عالمی آبی گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب میں مداخلت یا رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور سپلائی چینز کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

مزید برآں، قرارداد میں متاثرہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے، اور انہیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام حملے اور اشتعال انگیز اقدامات بند کرے، بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے اور متاثرہ ممالک کو ہونے والے نقصانات کا مکمل اور فوری ازالہ کرے۔

یہ قرارداد خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور اردن کی درخواست پر جنیوا میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد منظور کی گئی، جسے ماہرین خطے کی صورتحال پر ایک مضبوط بین الاقوامی ردعمل قرار دے رہے ہیں۔