ابوظہبی، 26 مارچ، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، سعودی عرب، قطر اور اردن نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے، چاہے براہ راست ہوں یا ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے ذریعے، متعلقہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
بیان میں خاص طور پر ان حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا جو عراق کی سرزمین سے ایران کے حامی گروپ کی جانب سے مختلف ممالک، ان کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ ان اقدامات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا، جس میں ایران کو ایسے تمام اقدامات فوری طور پر روکنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
عرب ممالک نے عراق کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت متاثرہ ممالک کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، اور وہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کر سکتے ہیں۔
بیان میں ایران کے حمایت یافتہ خفیہ نیٹ ورکس اور حزب اللہ سے منسلک عناصر کی سرگرمیوں کی بھی مذمت کی گئی، جنہیں خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی عرب ممالک نے اپنی مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، چوکسی اور بروقت کارروائیوں کو سراہا، جنہوں نے ان خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا۔