علاقائی بحران کے حل کے لیے مذاکرات میں جی سی سی ممالک کی شمولیت ضروری، سیکرٹری جنرل

ریاض، 26 مارچ، 2026 (وام) --خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے واضح کیا ہے کہ خطے میں جاری بحران کے کسی بھی حل کے لیے جی سی سی رکن ممالک کی شمولیت ناگزیر ہے، تاکہ پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

ریاض میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 25 دنوں میں جی سی سی ممالک کو ایران کی جانب سے 5 ہزار سے زائد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جن میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنایا، تاہم بعض حملوں کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران داغے گئے تقریباً 85 فیصد میزائل خلیجی ممالک کی جانب تھے، جن میں شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے عام شہری متاثر ہوئے۔ انہوں نے آج ابوظہبی میں ہونے والے حالیہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔

جاسم البدیوی کے مطابق ان حملوں سے اہم انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا، جن میں توانائی کے مراکز، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، ہوٹلز، سرکاری عمارتیں، سفارت خانے اور ہوائی اڈے شامل ہیں، جبکہ بعض ایئرپورٹس پر پروازوں کا سلسلہ بھی متاثر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جی سی سی ممالک کے فضائی دفاعی نظام نے پیشہ ورانہ انداز میں حملوں کا مقابلہ کیا اور ان کے اثرات کو محدود رکھا، تاہم اس سے حملوں کی سنگینی کم نہیں ہوتی اور ایران اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔

سیکرٹری جنرل نے عالمی معیشت پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جی سی سی ممالک روزانہ تقریباً 16 ملین بیرل تیل پیدا کرتے ہیں، جو عالمی پیداوار کا 22 فیصد ہے، جبکہ 11.5 ملین بیرل یومیہ برآمدات کے ساتھ عالمی خام تیل کی برآمدات میں 27 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کے پاس دنیا کے 33 فیصد تیل کے ذخائر اور 21 فیصد گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو انہیں عالمی توانائی کے نظام میں ایک کلیدی حیثیت دیتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ جی سی سی کا مؤقف بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے، اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔