ابوظہبی، 29 مارچ، 2026 (وام) --نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے ایران کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد متعدد عالمی رہنماؤں اور وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جن میں ان حملوں کے متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر ممالک پر اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شیخ عبداللہ بن زاید نے کینیا کے صدر ڈاکٹر ولیم سموئی روتو، عراق کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ ڈاکٹر فؤاد محمد حسین، انگولا کے وزیر خارجہ ٹیٹے انتونیو اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے گفتگو کی۔
گفتگو کے دوران ان حملوں کے علاقائی امن و استحکام اور عالمی معیشت و توانائی کی سلامتی پر ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تمام رہنماؤں نے ان میزائل حملوں کو بلا اشتعال اور دہشت گردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو ریاستوں کی خودمختاری اور خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متاثرہ ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں و رہائشیوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت ضروری اقدامات کریں۔
شیخ عبداللہ بن زاید نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے والے دوست اور برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ملک میں تمام شہری، رہائشی اور زائرین محفوظ ہیں۔
ٹیلیفونک رابطوں میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔