یروشلم میں عبادت پر پابندیوں کی مذمت، اسلامی و عرب ممالک کا مشترکہ مؤقف

ابوظہبی، 31 مارچ، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات، ہاشمی سلطنت اردن، جمہوریہ ترکیہ، عرب جمہوریہ مصر، جمہوریہ انڈونیشیا، اسلامی جمہوریہ پاکستان، مملکت سعودی عرب اور ریاست قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت کی آزادی پر اسرائیل کی جانب سے عائد مسلسل پابندیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مشترکہ بیان میں خاص طور پر ان اقدامات کو مسترد کیا گیا جن کے تحت مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ / الحرم الشریف تک رسائی سے روکا گیا، جبکہ یروشلم کے لاطینی پیٹریارک اور کسٹوس آف دی ہولی لینڈ کو چرچ آف دی ہولی سیپلکر میں پام سنڈے ماس کی ادائیگی سے بھی روک دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے یروشلم میں مسلم اور عیسائی مقدس مقامات کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی اسرائیلی کوشش کی مذمت کی اور اسے مسترد کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ مسلسل اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون، بشمول بین الاقوامی انسانی قانون، کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور ان سے مقدس مقامات تک بلا رکاوٹ رسائی کے بنیادی حق کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ وزرائے خارجہ نے یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف اسرائیل کے تمام غیر قانونی اور پابندیوں پر مبنی اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چرچ آف دی ہولی سیپلکر تک عیسائیوں کی آزادانہ رسائی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ یروشلم اور اس کے مسلم و عیسائی مقدس مقامات میں موجود قانونی اور تاریخی حیثیت کا احترام کیا جائے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل، بطور قابض طاقت، مقبوضہ یروشلم پر کوئی خودمختاری نہیں رکھتا، اس لیے اسے عبادت گزاروں کی عبادت گاہوں تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے والے تمام اقدامات فوری طور پر روکنے چاہییں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات کی بھی مذمت کی کہ اسرائیل نے مسلسل 30 روز تک، جن میں مقدس ماہ رمضان بھی شامل تھا، مسجد اقصیٰ / الحرم الشریف کے دروازے عبادت گزاروں کے لیے بند رکھے اور عبادت کی آزادی پر پابندی عائد کیے رکھی۔ بیان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قانون اور موجودہ قانونی و تاریخی حیثیت کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کی ذمہ داریوں سے بھی متصادم ہے۔ وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

مشترکہ بیان میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ / الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے، اور یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ، جو اردنی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے زیر انتظام ہے، اس مقدس مقام کے امور کی نگرانی اور اس میں داخلے کے ضابطے کا واحد قانونی ادارہ ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مسجد اقصیٰ / الحرم الشریف کے دروازوں کی بندش ختم کرے، یروشلم کے قدیم شہر میں رسائی پر عائد پابندیاں ہٹائے اور مسلمانوں کی مسجد تک رسائی میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ ساتھ ہی انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کرے تاکہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کے خلاف اپنی جاری خلاف ورزیاں، غیر قانونی اقدامات اور ان مقدس مقامات کی حرمت پامال کرنے والی کارروائیاں بند کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔