برسلز، 2 اپریل، 2026 (وام) --یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لیین اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا ہے، جسے عالمی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی جب یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی کایا کالاس برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والے ہنگامی ورچوئل اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں، جس میں تقریباً 35 ممالک کا اتحاد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے اقدامات پر غور کرے گا۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ موجودہ تنازع کا خاتمہ اور آبنائے کا دوبارہ کھلنا برطانیہ میں مہنگائی کے بحران سے نمٹنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اجلاس میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی، پھنسے ہوئے جہازوں اور ملاحوں کے تحفظ، اور اہم اشیاء کی نقل و حرکت کی بحالی کے لیے تمام ممکنہ سفارتی اور سیاسی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں مختلف ممالک کے وزراء اور اعلیٰ نمائندوں کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک کی مسلسل بندش پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
گزشتہ ماہ 35 ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز کی "موثر بندش" کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ جہاز رانی کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے۔
برسلز میں قائم یورپی پالیسی سینٹر کے چیف ایگزیکٹو فیبین زولیگ نے کہا کہ اس بحران کے حل میں یورپی کردار ناگزیر ہو سکتا ہے، اور ممکنہ جنگ بندی کے بعد یورپی ممالک کو آبنائے میں محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے عملی کردار ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔