ابوظہبی، 9 اپریل، 2026 (وام) --نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے ایران کی جانب سے بلا اشتعال اور دہشت گردانہ میزائل حملوں کے بعد، جن میں متحدہ عرب امارات اور کئی برادر و دوست ممالک کو نشانہ بنایا گیا، علاقائی پیش رفت پر مختلف برادر اور دوست ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کی۔
یہ رابطے مملکت سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ، ہاشمی سلطنت اردن کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ و تارکین وطن ایمن صفدی، اور کثیر القومی ریاست بولیویا کے وزیر خارجہ فرنانڈو آرامایو کے ساتھ ہوئے۔
گفتگو کے دوران عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید اور دیگر وزراء نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے اس بات پر زور دیا کہ ایران فوری طور پر خطے میں تمام جارحانہ اقدامات کو مکمل طور پر بند کرے، آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے مکمل طور پر دوبارہ کھولے، اور جہاز رانی کی آزادی، بین الاقوامی تجارتی بہاؤ، توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت کو درپیش خطرات کا خاتمہ یقینی بنائے۔
انہوں نے برادر ممالک کے وزراء کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ ملک میں تمام رہائشیوں اور زائرین کی سلامتی یقینی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی سطح پر مربوط اور مؤثر کوششیں ناگزیر ہیں، تاکہ عوام کو فائدہ پہنچایا جا سکے اور علاقائی سلامتی و استحکام کو فروغ حاصل ہو سکے۔