دنیا بھر میں انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی ہلاکتوں میں خطرناک اضافہ، اقوام متحدہ کا انتباہ

نیویارک، 9 اپریل، 2026 (وام) --اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور ٹام فلیچر نے انکشاف کیا ہے کہ 2025 کے دوران 21 ممالک میں 326 انسانی ہمدردی کے کارکن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس کے ساتھ گزشتہ تین برسوں میں ہلاک ہونے والے انسانی عملے کی مجموعی تعداد 1,010 سے تجاوز کر گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور اقوام متحدہ کے عملے کے تحفظ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے فلیچر نے بتایا کہ ان اموات میں سے 560 سے زائد غزہ اور مغربی کنارے میں ریکارڈ ہوئیں، جبکہ 130 سوڈان، 60 جنوبی سوڈان، 25 یوکرین اور 25 جمہوریہ کانگو میں پیش آئیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اموات کی شرح اس سے پہلے کے تین سالہ عرصے کے مقابلے میں تین گنا بڑھ چکی ہے، اور کہا کہ، "یہ اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ تحفظ کے نظام کے انہدام کا نتیجہ ہے۔"

فلیچر نے مزید کہا کہ یہ انسانی ہمدردی کے کارکن خوراک، پانی، پناہ گاہ اور ادویات کی فراہمی کے دوران ہلاک ہوئے۔ انہوں نے اپنی جانیں اس وقت قربان کیں جب وہ واضح طور پر نشان زد قافلوں میں سفر کر رہے تھے اور متعلقہ حکام کے ساتھ براہ راست ہم آہنگی کے تحت اپنے مشن انجام دے رہے تھے۔