متحدہ عرب امارات 2029 میں عالمی مالیاتی اجلاسوں کی میزبانی کرے گا

ابوظہبی، 10 اپریل، 2026 (وام) --- متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2029 میں ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سالانہ میٹنگز کی میزبانی ابوظہبی میں کرے گا، جو ملک کی معیشت پر عالمی اعتماد کا ایک نمایاں ثبوت ہے۔ اس اقدام سے متحدہ عرب امارات کی حیثیت ایک عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر مزید مستحکم ہوگی اور وہ بین الاقوامی معاشی نظام کے استحکام اور مستقبل کی تشکیل میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھرے گا۔

نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہاکہ، "یہ ایک عالمی اعتماد کا ووٹ ہے جو متحدہ عرب امارات کی مضبوط مالی بنیادوں اور عالمی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ابوظہبی کو 2029 میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی سالانہ میٹنگز کی میزبانی کے لیے منتخب کیا جانا ہمارے عوام کی صلاحیتوں اور قومی کامیابیوں کا مظہر ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یہ عالمی اجلاس 190 سے زائد ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے، جہاں عالمی مالیاتی استحکام سے متعلق پالیسیوں کی تشکیل اور عالمی معیشت کے مستقبل کے خدوخال طے کیے جاتے ہیں۔

شیخ محمد بن راشد نے کہاکہ، "ہمیں اپنے ملک، اس کی معاشی طاقت، اس کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت اور دنیا کی جانب سے حاصل ہونے والے اعتماد پر فخر ہے۔"

متحدہ عرب امارات کو یہ اعزاز بین الاقوامی انتخابی عمل میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد ملا، جو ملک کی معاشی طاقت، ادارہ جاتی تیاری اور مستحکم اقتصادی ماحول پر عالمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کی متوازن مالیاتی و مانیٹری پالیسیوں، جدید انفراسٹرکچر اور عالمی سطح کے ایونٹس کی کامیاب میزبانی کے وسیع تجربے کا اعتراف بھی ہے۔ اس ضمن میں 2003 میں دبئی میں اسی ایونٹ کی میزبانی کا تجربہ بھی اہم بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اس موقع پر دبئی کے پہلے نائب حکمران، نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ عزت مآب شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ 2029 میں ان اجلاسوں کی میزبانی ملک کے اسٹریٹجک وژن کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد عالمی شراکت داریوں کو فروغ دینا اور عالمی مالیاتی استحکام میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کھلے پن، تعاون اور لچکدار اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے عالمی معیشت کے مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار مزید مضبوط کرتا رہے گا۔

شیخ مکتوم نے مزید کہاکہ، "یہ عالمی ایونٹ دنیا بھر کے ممالک کے درمیان تعمیری مالیاتی اور معاشی مکالمے کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ ہم ایک ایسا مثالی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو پائیدار ترقی کو فروغ دے اور عالمی مالیاتی و معاشی انضمام کو مضبوط بنائے۔"

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس بڑے بین الاقوامی اجتماع کی میزبانی متحدہ عرب امارات کی تیاری، جدید انفراسٹرکچر اور اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کا ثبوت ہے، جو اسے عالمی معاشی فیصلوں اور شراکت داریوں کے لیے ایک مؤثر مرکز بناتی ہے۔

ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کی سالانہ میٹنگز دنیا کے اہم ترین اقتصادی اجتماعات میں شمار ہوتی ہیں، جہاں 190 سے زائد ممالک کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے گورنرز، پالیسی ساز اور ماہرین عالمی معاشی ترجیحات، مالیاتی استحکام، پائیدار ترقی اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

یہ میزبانی متحدہ عرب امارات کے لیے نہ صرف اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے بلکہ اسے عالمی معاشی فیصلوں میں ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر مزید مضبوط بناتی ہے۔

یہ فیصلہ کثیرالجہتی تعاون کے فروغ اور ترقی یافتہ و ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان تعمیری مکالمے کے قیام میں متحدہ عرب امارات کے فعال کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے، جس کے ذریعے ملک عالمی معاشی چیلنجز کے حل اور جامع و پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔